Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / ڈلاس فائرنگ ،اوباما نے دورۂ یوروپ مختصر کردیا

ڈلاس فائرنگ ،اوباما نے دورۂ یوروپ مختصر کردیا

حملہ آور نے افغانستان میں فوجی خدمات انجام دی تھی ، سفید فام پولیس آفیسرس نشانہ
واشنگٹن ۔ 9جولائی ۔(سیاست ڈاٹ کام) ڈلاس میں گولی چلانے کے واقعہ کے بعد جس نے 5 ملازمین پولیس کی جان لے لی ، صدر امریکہ براک اوباما اپنا دورۂ یوروپ مختصر کرکے واپس ہورہے ہیں اور وہ آئندہ ہفتے ڈیلاس کا دورہ کریں گے ۔ وائیٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جوش آرنیسٹ نے یہ بات بتائی ۔ انھوں نے کہاکہ صدر براک اوباما اتوار کی شب واشنگٹن واپس ہوجائیں گے ۔ وہ طئے شدہ پروگرام کے مطابق سیول (اسپین ) کا دورہ نہیں کریں گے ۔ اس کے برعکس انھوں نے اپنا دورہ مختصر کرتے ہوئے یوروپ سے ہی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ وائیٹ ہاؤس پہونچتے ہی براک اوباما پولیس عہدیداروں اور دیگر کے ہمراہ اجلاس منعقد کریں گے اور اس واقعہ کے پیش نظر مختلف اُمور کا جائزہ لیا جائے گا ۔ اُوباما اس وقت وارسا ، پولینڈ میں ہیں جہاں وہ برطانیہ کے یوروپی یونین سے اخراج کے بعد منعقد ہونے والے ناٹو چوٹی اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔ اس اجلاس میں یوروپی یونین کے سرکردہ قائدین بھی شریک ہیں۔ چوٹی اجلاس کے بعد اوباما اسپین کا دو روزہ دورہ کرنے والے تھے اور صدر امریکہ منتخب ہونے کے بعد اُن کا یہ پہلا دورۂ اسپین تھا

لیکن وہ صرف ایک دن قیام کریں گے اور دوسرے دن کے تمام پروگرامس منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ اس دوران امریکی شہر ڈیلاس میں فائرنگ کے ذریعہ 12 افراد کو نشانہ بنانے والے شخص کی 25 سالہ میکاب زیوئیر جانسن کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ اس کارروائی میں 5 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ۔ پولیس کی جانب سے سیاہ فام شخص کو ہلاک کئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرین پر یہ فائرنگ کی گئی تھی ۔ زیوئیر جانسن فوجی لباس پہنے ہوئے تھا اور اُس کے پاس سیمی آٹومیٹک اسالٹ رائفل تھی ۔ ڈیلاس پولیس نے کل دوپہر ایک بیان جاری کرتے ہوئے بندوق بردار کی شناخت کی توثیق کی اور کہا کہ وہ افغانستان میں جنگی خدمات کیلئے تعینات کیا گیا تھا ۔

بتایا گیا ہے کہ جانسن جنگی ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کئے ہوئے تھا اور اُسے نومبر 2013 ء اور جولائی 2014 ء کے مابین افغانستان میں متعین کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ 2015 ء تک وہ چھ سال ریزرو فورس میں رکھا گیا تھا ۔ وہ کارپنٹری اور میسنری اسپیشلسٹ بھی تھا ۔ اس کے علاوہ اُسے فوجی خدمات کیلئے میڈل بھی دیا گیا تھا ۔ ایک شخص نے جو فوجی بنکر میں اُس کا ساتھی تھا فیس بک پر لکھا کہ ہماری یونٹ میں زیوئیر جانسن کا کوئی خاص مقام نہیں تھا ، کیونکہ وہ اکثر لڑکیوں کے ملبوسات چُرالیا کرتا تھا ۔ لیکن اُس نے جس انداز کی کارروائی کی اور پولیس ملازمین کا قتل کیا ہے وہ بالکل ایک علحدہ واقعہ ہے ۔ جانسن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق بھی نہیں ہے ۔ اس کارروائی نے خود اُس کے ارکان خاندان کو حیران و ششدر کردیا ہے ۔ جانسن کی بہن نیکول نے فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ مجھے اب بھی اس بات پر یقین نہیں ہورہا ہے ۔ آخر اُس نے یہ حرکت کیوں کی ؟ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جانسن نے ایک پرامن ریلی کو پرتشدد شکل دیدی اور  خوں ریزی کے ذریعہ افراتفری پھیلادی ۔ اُس نے قتل عام کے دوران بتایا کہ وہ سفید فام پولیس آفیسروں کو نشانہ بنارہا ہے کیونکہ پولیس کی حالیہ کارروائیوں پر وہ برہم ہے ۔

TOPPOPULARRECENT