Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / ڈونالڈ ٹرمپ، ہلاری سے بہت پیچھے

ڈونالڈ ٹرمپ، ہلاری سے بہت پیچھے

دانش قادری
امریکہ میں اب جبکہ صدارتی انتخابات کی رائے دہی کیلئے ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے انتخابی جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ انتخابات کا وقت جیسے جیسے قریب آتا ہے ویسے ویسے امیدواروں کا لب و لہجہ اور انداز بدلتا جا تا ہے اور شدت اختیار کرتا جاتا ہے ۔ ایک دوسرے پر تنقیدیں اور جوابی تنقیدیں بھی بڑھ جاتی ہیں اور اگر امیدواروں کی عوامی مقبولیت میں کوئی فرق ہوتا ہے تو وہ لمحہ آخر تک گھٹتا یا بڑھتا جاتا ہے ۔ اب امریکہ میں جب رائے دہی کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ایسے میں ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ ایسا لگتا ہے کہ اپنی مقبولیت کھوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ان کے جو بیانات اور تقاریر یا پرانے ویڈیوز سامنے آئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کی وجہ سے ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ ہونے کی بجائے یہ گھٹتی جا رہی ہے ۔ اب خود ریپبلیکن پارٹی میں یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں کہ صدارتی انتخاب میں نہ صرف ٹرمپ کو شکست ہوگی بلکہ خود پارٹی کو بھی ان کی وجہ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ٹرمپ کو خود اپنی پارٹی میں سینئر قائدین کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ خود ریپبلیکن پارٹی کے قائدین ٹرمپ کی تائید سے دستبردار ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک سینئر لیڈر نے تو یہاں تک اظہار خیال کردیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے صدارتی دعوے سے بھی دستبردار ہوجانا چاہئے ۔ تازہ ترین سروے جو کئے جا رہے ہیں ان میں بھی یہ واضح ہو رہا ہے کہ ٹرمپ پر ہلاری کلنٹن کی سبقت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کلنٹن کا موقف مستحکم ہوتا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کے تعلق سے خود ان کی پارٹی کے قائدین میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور وہ ٹرمپ کی تائید پر از سر نو غور کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پارٹی کو یہ اندیشے لاحق ہوگئے ہیں کہ ٹرمپ نہ صرف اپنی لڑائی میں شکست کھائیں گے بلکہ وہ امریکی کانگریس میں بھی پارٹی کی شکست کا باعث بنیں گے ۔
امریکہ میں 535 رکنی ایوان نمائندگان میں 247 نشستوں پر اور 100 رکنی سنیٹ میں 54 نشستوں پر ریپبلیکن پارٹی کا قبضہ ہے ۔ ریپبلیکن پارٹی کو 1929-31 کے بعد پہلی مرتبہ اتنی اکثریت حاصل  ہوئی تھی ۔ امریکہ میں ایسی روایت رہی ہے جو سیاسی اور اقتدار کے توازن کو برقرار رکھتی ہے اور کسی ایک جماعت کو کامل اختیارات نہیں سونپے جاتے ۔ اب یہ توازن خطرہ میں پڑ گیا ہے کیونکہ ٹرمپ کے تعلق سے بے چینی اور ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ریپبلیکن پارٹی کو خوف ضرور تھا کہ اسے سینیٹ میں اکثریت سے محروم ہونا پڑسکتا ہے کیونکہ اس کے قبضہ والی نشستوں میں ایک تہائی (34  ) پر انتخابات ہونے والے ہیں اور یہاں اسے شکست بھی ہوسکتی ہے تاہم یہ تاثر بھی عام تھا کہ ایوان نمائندگان میں ریپبلیکنس کی اکثریت کو دھکا نہیں لگے گا ۔ تاہم اب یہ صورتحال نہیں رہی ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ایوان کے اسپیکر پال ریان اور کچھ دوسرے ریپبلیکن قائدین نے ٹرمپ کیلئے اپنی تائید پر نظر ثانی کی ہے ۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکی کانگریس میں پارٹی کی اکثریت برقرار رہے ۔ ایسے میں وہ پارٹی کی مہم چلانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں نہ کہ صدارتی انتخاب میں کامیابی پر ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس صورتحال کا ٹرمپ پر کوئی خاص اثر نہیں ہو رہا ہے ۔ یہ پارٹی ابراہم لنکن کے دور سے چلی آ رہی ہے ۔ اب ٹرمپ بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھی پارٹی سے اسی قدر دور ہونے تیار ہیں جتنا پارٹی ان سے خود کو دور کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ’’ یہ اچھی بات ہے کہ تمام شکنجے ٹوٹ گئے ہیں۔ اب میں امریکہ کیلئے اسی انداز سے جدوجہد کرسکتا ہوں جیسا میں چاہتا ہوں ‘‘ ۔ انہوں نے ریپبلیکن پارٹی قائدین کو بے وفا قرار دیا ہے اور کہا کہ بعض تو ہلاری کلنٹن سے بھی بدتر ہیں۔ وہ آپ پر سبھی جانب سے ٹوٹ پڑتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کامیابی کس طرح حاصل کی جاتی ہے ۔ میں انہیں سبق سکھاؤں گا ۔ ٹرمپ نے خاص طور پر سینئر ریبپلیکن لیڈر جان مک کین کو نشانہ بنایا ہے ۔ مک کین 2008 میں ریپبلیکن پارٹی کی صدارتی نامزدگے سے محروم ہوگئے تھے ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مک کین کو جب ضرورت پڑی انہوں ( ٹرمپ ) نے تائید فراہم کی تھی لیکن اب مک کین ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ مک کین اریزونا سے سینیٹ کیلئے مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کا مقابلہ یہ امتحان ہوگا کہ آیا کوئی امیدوار صرف ریپبلیکن پارٹی کی تائید اور اپنے بل پر ٹرمپ کی حمایت کے بغیر کامیابی حاصل کرسکتا ہے یا نہیں۔

ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے ریپبلیکن پارٹی کے سینئر قائدین پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ عوامی تائید سے محروم ہوگئے ہیں اور انہیں انتخابی نتائج کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ ٹرمپ کے ایک حامی اور لووا کے لیڈر اسٹیو کنگ کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ذمہ داروں کو اب اس صورتحال سے نمٹنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پارٹی صحیح سمت میں آگے بڑھے ۔ ایوان کے اسپیکر پال ریان کی مخالفت پر خود ٹرمپ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وائیٹ ہاوز کی جنگ جیت جاتے ہیں تو وہ خود پال ریان کوا یوان کے اسپیکر کی حیثیت سے بدل دینگے ۔ دوسری طرف ڈیموکریٹ پارٹی کے قائدین بشمول خود صدر بارک اوباما ریپبلیکن پارٹی کی داخلی چپقلش کو اور بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ اگر وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر انہیں نہ صرف اپنی پسند کے افراد کے تقررات کا موقع ملے گا بلکہ پارٹی کے ایجنڈہ پر بھی عمل آوری یقینی ہوسکتی ہے ۔ اگر ڈیموکریٹکس صدارتی جنگ اور ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو امریکہ میں کئی شعبوں پر اس کے اثرات دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ امریکہ میں ہیلت کئیر سے لیکر امیگریشن تک زبردست تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ اوباما نے جن اقدامات کا آغاز کیا تھا انہیں کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ اوباما خود ان مسائل کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک طرح سے انتخابی مہم کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان کی شریک حیات مشیل اوباما بھی ٹرمپ پر تنقیدوں میں آگے آگئی ہیں۔ اس صورتحال سے ریپبلیکن پارٹی قائدین کے حوصلے پست دکھائی دے رہے ہیں اور ڈیموکریٹس کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔

حالیہ عرصہ میں خواتین کے تعلق سے ٹرمپ کے ریمارکس پر بھی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ اس سے بھی ان کی عوامی مقبولیت کا گراف نیچے چلا گیا ہے ۔ ٹرمپ کے تعلق سے مقابلہ حسن میں حصہ لے چکی کچھ خواتین کا کہنا تھا کہ وہ ان مقابلوں کے دوران اس حال میں کمروں میں داخل ہوجاتے تھے جب مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی دوشیزائیں یا تو برہنہ ہوتیں یا نیم برہنہ ۔ ٹرمپ کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ وہ اس سوچ کے حامل ہیں کہ ان مقابلوں کے منتظم کی حیثیت سے انہیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ ماڈلس کے کمروں میں وقت گذاریں۔ ٹرمپ نے خواتین کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں انہیں خود امریکی معاشرہ میں پسند نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کچھ خواتین نے تو اب ٹرمپ پر جنسی استحصال اور ہراسانی کے الزامات بھی عائد کردئے ہیں اور ٹرمپ کی ذہنیت پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ان کے سیاسی مخالفین کی چالبازیاں ہیں۔ تاہم بحیثیت مجموعی ٹرمپ کی مقبولیت میں زبردست گراوٹ آ رہی ہے اور یہ قیاس بے معنی نہیں ہوگا کہ امریکہ میں رائے دہی تک ٹرمپ کی حالت اور بھی ابتر ہوجائے اور انہیں انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے ۔ یہ اندیشے خود ریبپلیکن پارٹی کے سینئر قائدین کو بھی لاحق ہوگئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT