Monday , September 25 2017
Home / اداریہ / ڈونالڈ ٹرمپ اور چین

ڈونالڈ ٹرمپ اور چین

کس کو معلوم ہے آپ آئے کدھر سے ہوکر
آپ کی شوخی رفتار سے جی ڈرتا ہے
ڈونالڈ ٹرمپ اور چین
صدر امریکہ کی حیثیت سے جائزہ لینے سے قبل ہی ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسیوں کے بارے میں چند اشارے دے کر کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے خاص کر چین کو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے مضطرب کر رکھا ہے۔ امریکہ کے ساتھ اپنی دیرینہ رقابت کے باوجود حالیہ برسوں میں اپنی اشیاء کی کھپت کیلئے عالمی مارکٹ میں امریکہ کو اہم منزل بنانے والے چین کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موافق روس پالیسی سے پریشانی لاحق ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات میں مضبوطی آجاتی ہے تو پھر چین اپنی خارجہ پالیسی پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔ امریکہ خارجہ پالیسی کونسل میں روس کے سینئیر فیلو اسٹیفن بلنک نے امریکہ ۔ روس دوستی سے چین ۔ روس تعلقات پر اثر پڑنے کا اشارہ دیا ہے۔ جہاں تک جنوبی ایشیاء میں امریکہ کی پالیسی کا سوال ہے ہندوستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم چین۔ روس اور امریکہ کے درمیان تکون صورتحال سے جو حالات پیدا ہوں گے اس کا راست ہندوستان کو فائدہ ہوسکتا ہے کیوں ایک طرف امریکہ۔ روس کی بڑھتی دوستی اور دوسری طرف روس کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ تعلقات اور دفاعی ہتھیاروں کی خریدی کرنے والا اہم ملک ہونے کے ناطے روس بھی ہندوستان کو یکسر نظرانداز نہیں کرسکے گا۔ ایسے میں چین اپنی اضطرابی کیفیت کو پوشیدہ نہیں رکھ سکے گا۔ امریکہ اور روس کی بڑھتی قربت کو طویل مدتی تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو ابھی زبانی جمع خرچ میں لیا جارہا ہے۔ آئندہ ماہ جب باقاعدہ امریکی صدارت کی ذمہ داری حاصل کرلیں گے تو انہیں خارجہ تعلقات کے بارے میںکافی گہرائی سے ہوم ورک کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ امریکی خارجی امور کی نگرانی کرنے والے اہم شخصیتوں کو اندازہ ہیکہ صدر کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ کی روس سے قربت اختیار کرنے کے منفی نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے والا روس اپنے سامنے ایک نووارد سیاستداں ٹرمپ کو دیکھ رہا ہے تو ان کی کچی سوچ سے پھوٹنے والی خارجی پالیسیاں اور منصوبے کیا رنگ لائیں گی یہ وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال جنوبی ایشیاء میں چین کو یکا و تنہا ہوجانے کا احساس ہونے لگا ہے تو وہ اپنی خارجہ پالیسی پر ازسرنو غور کرے گا۔ اسے ایسا کرنا لازمی ہوجائے گا کیونکہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن ایک طرف امریکہ سے دوستی بڑھا رہے ہیں تو دوسری طرف جاپان کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم شینزوابے سے ملاقات کی اور 300 امریکی ڈالرکے معاہدہ پر دستخط بھی کی۔ گذشتہ 11 سال سے روس اور جاپان کے درمیان یہ پہلا موقع تھا جہاں دونوں ملکوں نے باہمی مذاکرات کا احیاء کیا۔ روس نے شاید یہ طئے کرلیا ہیکہ اسے اب چین پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہئے اسی لئے وہ دیگر ممالک سے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ عالمی سطح پر حلیف ممالک کے بدلتے موقف اور اور دوست ملکوں میں آئی تبدیلی سے واضح ہورہا ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ سیاسی سفر ساری دنیا میں مختلف کیفیت کو ہوا دے گا اور عالمی حالات مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔ چین کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت بیانی کا سلسلہ پالیسیوں تک پہنچ جائے تو دونوں ممالک میں تجارتی جنگ چھڑ جائے گی۔ ویسے چین کی پراڈکٹس کا اصل مارکٹ امریکہ ہے اور امریکہ میں چین کے طالب علم زیرتعلیم ہیں۔ امریکہ کی پروقار یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم بیرونی طلباء میں چین کے طلباء کی اکثریت زیادہ ہے۔ بظاہر دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی اور نہ ہی چین کی خاص اشیاء کو امریکہ میں فروخت کا مرکز حاصل ہے پھر بھی جب سے ڈونالڈ ٹرمپ نے چین کو اپنے ملک کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بتا کر پیش کرنا شروع کیا ہے عالمی طاقتوں کی توجہ ان دونوں ملکوں کی طرف مرکوز ہورہی ہے۔ اسی لئے ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی خارجہ پالیسیوں اور تجارتی امور کے بارے میں احتیاط کے ساتھ اظہار خیال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ چین کی معیشت آگے بڑھ رہی ہے اور امریکہ کو بھی اپنی اشیاء کی کھپت کیلئے چین کی مارکٹ کا سہارا لینا ضروری ہے۔ اقتدار کی سختیاں اور وقت اور حالات کے ساتھ رونما ہونے والی مجبوریاں ٹرمپ کیلئے باعث درس بنتی ہیں تو اس سے وہ ضرور کچھ بہتر ہی سیکھ سکیں گے ورنہ اپنے ملک کیلئے خسارہ کا مؤجب بنیں گے۔
شہریوں کی سالانہ آمدنی
ہندوستان کی مردم  شماری سے پتہ چلتا ہیکہ ملک کی ایک بڑی آبادی کی سالانہ آمدنی 2.5 لاکھ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ حکومت اپنے ہر سال کے بجٹ میں ٹیکس سے استثنیٰ کی حد مقرر کرتی ہے۔ یہ حد اس وقت سالانہ 2.5 لاکھ روپئے آمدنی والے شہریوں کو ٹیکس کے دائرہ میں نہیں لایا گیا لیکن حکومت ان ٹیکس چوروں کی نشاندہی نہیں کرسکی جو سالانہ کثیر آمدنی کے باوجود ٹیکس کی ادائیگی سے گریز کرتے ہیں۔ 8 نومبر کو بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد حکومت نے کتنا کالادھن باہر لایا اور کتنا کالادھن ہنوز اندر پوشیدہ ہے اس کا ڈیٹا تیار نہیں کیا۔ حقیقت تو یہ ہیکہ 125 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں صرف 3.65 کروڑ شہری ہی اپنا آئی ٹی ریٹرنس جمع کراتے ہیں یعنی ملک کی آبادی کے تناسب سے صرف 3 فیصد ہندوستانی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس کی چوری یا ٹیکس ادا نہ کرنے کی حیثیت ان کے درمیان مودی حکومت نے نوٹ بندی کا فیصلہ کرکے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کی۔ وہ اب بھی کالادھن باہر لانے میں ناکام ہے۔ کل بھی وہ کالادھن لانے کی صرف ہوائی باتیں کرتی تھی اب سخت اقدام کے باوجود کالے دھن کو چھو نہیں سکی صرف عام آدمی ہی نشانہ بنا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہی کہ مودی حکومت کی نظر میں ہندوستان کا عام آدمی ہی کالادھن رکھتا ہے۔ رشوت خوری کا  خاتمہ، کالادھن کا پتہ چلانے کے دعوے دھیرے دھیرے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔ ایک عام شہری کو جن مصائب کا شکار بنایا گیا ہے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار کرنا مودی حکومت کو سخت آزمائش میں مبتلاء کردے گا۔

TOPPOPULARRECENT