Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈونالڈ ٹرمپ جونیر کا روسی وکیل سے ملاقات کرنا غیر قانونی نہیں : اٹارنی جنرل

ڈونالڈ ٹرمپ جونیر کا روسی وکیل سے ملاقات کرنا غیر قانونی نہیں : اٹارنی جنرل

صدر موصوف ملاقات سے لاعلم ، فاکس نیوز سے بات چیت
واشنگٹن ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اٹارنی نے آج ایک بار پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے سب سے بڑے بیٹے کی ایک روسی وکیل سے ملاقات کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے جو گذشتہ سال صدارتی انتخابات کی مہمات کے دوران کی گئی تھی ۔ ٹرمپ جونیر نے روسی وکیل سے اس توقع کے ساتھ ملاقات کی تھی کہ انہیں ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن سے متعلق کوئی خاص اطلاع یا معلومات حاصل ہوگی اور اسی توقع نے اب امریکہ میں تنازعہ کا ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جہاں لوگوں کی تشویش صرف دو سوالات پر مرکوز ہے کہ آیا ٹرمپ جونیر کو روسی وکیل سے ملاقات کرنا چاہئے تھا یا نہیں ۔ جو اطلاعات روسی وکیل کے ذریعہ ملنے والی تھی اسے ’ روس اور روسی حکومت کی جانب سے ڈونالڈ ٹرمپ کی تائید ‘ سے تعبیر کیا گیا تھا ۔ صدر ٹرمپ کے ارٹانی جے سیکولو نے ٹرمپ کے علاوہ ان کے بیٹے جونیر کا بھی دفاع کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز جنرل نے ایک دو نہیں بلکہ پورے پانچ ٹیلی ویژن پروگرامس میں حصہ لیا تھا اور پروگرام میں وہ ڈونالڈ ٹرمپ جونیر کا دفاع کرتے نظر آئے ۔ فاکس نیوز پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر یہی کہا کہ ٹرمپ جونیر کی روسی وکیل کے ساتھ ملاقات کو غلط یا غیر قانونی نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا اور وہ کچھ نہیں جانتے تھے ۔ ابتداء میں جب جون 2016 میں یہ ملاقات ہوئی تھی جس کا مقصد ہلاری کلنٹن کے بارے میں کوئی ایسی معلومات حاصل کرنا تھا جو ان کے والد ( صدر ٹرمپ ) کے صدارتی انتخاب کی راہ ہموار کردے ۔ بہر حال ایسے ای میلز کی اجرائی کا بھی انکشاف ہوا ہے جو ٹرمپ جونیر کی جانب سے جاری کئے گئے تھے اور جس میں انہوں واضح طور پر کہا تھا کہ ڈیموکریٹک امیدوار ہلاری کلنٹن کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے انہیں اب روس پر انحصار کرنا ہوگا ۔ دریں اثناء اعلیٰ سطحی ڈیموکریٹ سین مارک وارنر جن کا تعلق سینیٹ کی انٹلی جنس کمیٹی سے ہے نے یہ خواہش کی ہے کہ میٹنگ میں جن جن لوگوں نے شرکت کی تھی وہ ان کی کمیٹی کے روبرو حاضر ہوں ۔ یاد رہے کہ یہ کمیٹی بھی امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی تحقیقات کررہی ہے کیوں کہ یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے لے کر صدارتی انتخابات کے نتائج منظر عام پر آنے تک روس کی مداخلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ دوسری طرف ٹرمپ ٹاور میں جونیر ٹرمپ کے علاوہ جن لوگوں نے شرکت کی ان میں ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر اور پال مانا فورٹ بھی شامل ہیں ۔ جنہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہمات میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ سی بی ایس کے ’ فیس دی نیشن ‘ پروگرام میں وارنر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس شخص سے جس نے میٹنگ میں شرکت کی تھی فرداً فرداً ان کے نظریات جاننا چاہتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ہر ایک کو جب اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت پیش آئے گی تو یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے کسی دوسری میٹنگ میں بھی شرکت کی ہوگی ۔ مسٹر سوکولو نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ کسی دیگر میٹنگ میں کسی روسی نے بھی شرکت کی ہوگی ۔ میں امریکی صدر کی نمائندگی کرتا ہوں لیکن ڈونالڈ ٹرمپ جونیر نے کسی رسمی میٹنگ کے تناظر میں یہ بات نہیں کہی ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے روسی عوام سے ملاقات کی ہوگی ۔ اس میں کون سی نئی بات ہے ۔ کئی امریکی شہری روسی عوام سے بھی ملاقات کرتے ہیں ۔ سوکولو نے سی ایس ایف کے ’ اسٹیٹ آف دی یونین ‘ سے بات کرتے ہوئے یہ وضاحت کی ۔ دوسری طرف اگر ہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب دیکھیں تو وہ خود اپنے بیٹے کے دفاع کے لیے آگے آئے تھے اور یہ تک کہ دیا تھا کہ ’ امریکی فیک نیوز ‘ میڈیا نے ان کے بیٹے کو اس تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کئی ٹوئیٹس کرتے ہوئے امریکی میڈیا کو دھوکہ باز کہتے ہوئے امریکی جمہوریت کی شبیہ بگاڑنے کا الزام بھی عائد کیا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان صدر موصوف کی صدارتی مہمات کے زمانے سے ہی سرد جنگ چل رہی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT