Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / ڈونالڈ ٹرمپ نشان ملامت بن گئے

ڈونالڈ ٹرمپ نشان ملامت بن گئے

عقیل احمد
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کسی غریب اور ترقی پذیر ملک میں ہونے والے انتخابات کی سطح پر آگئے ہیں۔ اور اس کے لئے ری پبلکن پارٹی کے نامزد امیدوار و ارب پتی تاجر ڈونالڈ ٹرمپ پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ انہیں امریکی سیاست میں قافلے کا بھونکوں کہا جاتا ہے اور ان کے بیانات اور بکواس کو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت میں امریکی سیاسی قافلے کے بھونکوں ہیں۔ ہمیشہ اپنے تجارتی مفادات کو پروان چڑھانے کی فکر میں غرق رہے ڈونالڈ ٹرمپ کو شاید خارجہ پالیسی کی اے بی سی نہیں معلوم لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ خارجی معاملات صدر بارک اوباما سے کہیں زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ مسلمانوں، یوروپی ملکوں کا رخ کرنے والے پریشان حال تارکین وطن، عراق اور افغانستان میں امریکہ کے لئے قربانی دینے والے مسلم فوجیوں، روس سے متعلق امریکی پالیسی اور خواتین کے بارے میں ٹرمپ کے اب تک جو بیانات سامنے آئے ہیں ان پر نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی بلکہ خود ڈونالڈ ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے قائدین نے برہمی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور توقع ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابابات میں اپنی بکواس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ امریکی صدر بارک اوباما نے ابتداء سے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کیا۔ انہیں امریکی صدارت کے لئے ان فٹ یعنی غیر موزوں قرار دیا ہے۔ اوباما نے حال ہی میں ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدارت کے لئے ان فٹ ہونے سے متعلق اپنے بیانات کا اعادہ کرتے ہوئے امریکیوں خاص کر ری پبلکن پارٹی کے قائدین اور ہمدردوں کو یاد دلایا کہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ جسے سپر پاور ملک کے باوقار عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ اوباما نے ڈونالڈ ٹرمپ کے عجیب و غریب بیانات اور حرکات و سکنات کے حوالے دیتے ہوئے ری پبلیکنس سے یہ بھی دریافت کرلیا کہ آخر وہ لوگ اور ان کی پارٹی ٹرمپ کی کس بنیاد پر حمایت کررہی ہے۔ صدر بارک اوباما کے خیال میں ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے جب آپ یا ہم کہتے ہیں کہ بس بہت ہوگیا۔ اوباما نے ٹرمپ کے بارے میں جو تبصرہ کیا ہے وہ سچ ہے اس لئے کہ ٹرمپ مسلمانوں کی نفرت و عداوت میں ان مسلم فوجیوں کے والدین کا بھی مذاق اڑا رہے ہیں جنہوں نے عراق اور افغانستان میں اپنے ملک امریکہ کی طرف سے لڑتے ہوئے اور وہاں اس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردیں۔ حالیہ عرصہ کے دوران صدر بارک اوباما نے ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقیدیں تیز کردی ہیں اور اس معاملہ میں انہیں خود ڈونالڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے کچھ قائدین کی تائید و حمایت، بھی حاصل ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے عہدہ نائب صدر کے لئے نامزد امیدوار ٹم کین نے تو ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر فٹ نہیں لگتے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں امریکیوں کے تبصروں پر اس لئے حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ کچھ عالمی قائدین بشمول صدر فرانس فرانکوئس اولاند بھی ڈونالڈ ٹرمپ پر نہ صرف شدید تنقیدیں کررہے ہیں بلکہ ان کی شخصیت کا مضحکہ بھی اڑا رہے ہیں۔ فرانکوئس اولاند کے اُس بیان سے ڈونالڈ ٹرمپ کی شخصیت سے لوگوں کی نفرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں انہوں نے کچھ یوں کہا ہے ’’ٹرمپ کے باعث لوگوں کو متلی ہونے لگتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ایک ایسی ناگوار اور گندی شئے ہے جس کے نتیجہ میں لوگ متلی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ امریکی سیاسی حلقوں میں ڈونالڈ ٹرمپ خواتین اور مسلمانوں کے بارے میں اپنے طفلانہ بیانات کے لئے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ صدر بارک اوباما نے تو ری پبلیکنس سے واضح طور پر کہا ہے کہ آپ لوگ ایک ایسے شخص کی حمایت کیوں کررہے ہیں جو بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتا جسے امریکہ کی تاریخ اس کی جمہوریت سے واقفیت نہیں۔ اوباما کے مطابق ٹرمپ کے بیانات سے ان کے معیار کا پتہ چلتا ہے۔ دوسری جانب کئی ری پبلیکنس نے برسر عام اس بات ا اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلاری کلنٹن کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ اس طرح کے قائدین کے خیال میں ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق میں اپنی جان قربان کرنے والے مسلم فوجی ہمایوں خاں کی والدہ کے بارے میں جو ناپسندیدہ ریمارکس کئے ہیں وہ ریمارکس ہی ٹرمپ کے تعلق سے رائے بدلنے کا باعث بنے ہیں۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کے قائدین کی جانب سے ہمایوں خاں کی والدہ سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کرائما کے روس کے ساتھ الحاق کی تائید و حمایت سے متعلق ان کے بیان کی مذمت ہو رہی ہے۔ صدر بارک اوباما کے مطابق ان کے کئی ری پبلکن صدور اور صدارتی امیدواروں کے ساتھ پالیسی اختلافات رہے  اس کے باوجود کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال نہیں آیا کہ یہ لوگ صدارتی فرائض کی انجام دہی کے لئے نااہل ہیں، لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ ٹرمپ امریکی صدارت کے لئے نااہل ہیں۔ صدر بارک اوباما کے ان سخت ریمارکس پر ری پبلکن حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اوباما اور خود اپنی پارٹی قائدین کی جانب سے کی جارہی مخالفت کی خفت کو مٹانے کے لئے ٹرمپ نے اوباما پر جوابی وار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارک اوباما ممکنہ طور پر امریکہ کے بدترین صدر ہیں اور وائٹ ہاوز میں ان کا دور امریکی تاریخ کا تباہ کن دور رہا۔ منگل کو فاکس نیوز کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مسٹر بارک اوباما کو ایک کمزور اور غیر موثر صدر قرار دیا۔ اپنے انٹرویو میں ٹرمپ نے روس۔ یوکرین بحران سے نمٹنے کے لئے احتیار کردہ حکمت عملی و طریقہ کار کے حوالے سے اوباما کا مضحکہ بھی اڑایا۔ ٹرمپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی پارٹی کے ان دو سینئر رہنماؤں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جنہوں نے برسرعام ان پر تنقید کی تھی۔ ٹرمپ نے انٹرویو میں ایوان کے اسپیکر پال ریان اور سنیٹر جان میکن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے دوبارہ تقرر کی توثیق نہیں کریں گے۔ یہ دونوں قائدین نومبر میں دوبارہ انتخاب کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ کے خلاف ری پبلیکنس میں جو ناراضگی پائی جارہی ہے اس کا اندازہ پارٹی کو عطیات فراہم کرنے والوں کی سرد مہری سے لگایا جاسکتا ہے۔ پارٹی عطیات دینے اور فنڈس جمع کرنے کے لئے شہرت رکھنے والے میگ وٹ میان نے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلاری کلنٹن کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کے عجیب و غریب بیانات اور حرکتوں نے ملک کے خصوصی دھارے کے لئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ بہرحال فی الوقت امریکہ میں ٹرمپ پر ہیلاری کلنٹن کو 15 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے اگر ٹرمپ ایسے ہی بکواس کرتے رہیں تو ہیلاری کلنٹن کی برتری میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT