Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ کو ’محفوظ‘ ملک بنانے کا وعدہ

ڈونالڈ ٹرمپ کا امریکہ کو ’محفوظ‘ ملک بنانے کا وعدہ

ہمارا عقیدہ امریکن ازم ہوگا، بین الاقوامیت نہیں
کلیولینڈ ۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی طرف سے بطور صدارتی امیدوار نامزدگی قبول کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو لاحق خطرات دور کر دیں گے۔ اوہایو میں پارٹی کے کنونشن کے آخری مرحلے میں انھوں نے اپنے خطاب میں کہا: ’جن جرائم اور تشدد نے ہمارے ملک کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے وہ جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔‘ ٹرمپ نے موجودہ امریکہ کی سیاہ تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صدارت میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس میں امریکہ اور عام آدمی کو اولیت حاصل ہوگی۔ پارٹی نے انھیں گذشتہ روز ہی صدارتی امیدوار کے لیے نامزد کیا تھا جسے انھوں نے قبول کیا اور پھر کنونشن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر امریکہ کے سابق صدور اور پارٹی کی سرکردہ شخصیات بش سینیئر اور جونیئر موجود نہیں تھے جنھوں نے ٹرمپ کی نامزدگی کی سخت مخالفت کی تھی۔ نیو یارک کے ارب پتی ڈونالڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ اس خطاب سے ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات رفع ہو جائیں گے اور پارٹی متحد ہوگی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے اپنے خطاب میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ملک کی جو تصویر پیش کی اس کے مطابق امریکہ نہ صرف بکھر رہا ہے بلکہ تنزلی کی راہ پر ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں ’بھولے جا چکے‘ امریکیوں کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کی آواز ہوں۔‘  ’ہم اپنے ملک کو پھر سے محفوظ، خوشحال اور پر امن بنائیں گے۔ یہ ایک فیاض اور پرجوش ملک ہو گا۔ لیکن ہم ایسا ملک ہوں گے جہاں امن و امان ہو۔‘ انھوں نے کہا: ’ہمارا عقیدہ امریکن ازم ہوگا بین الاقوامیت نہیں۔

‘ اپنے خطاب کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی حریف ہلاری کلنٹن پر بار بار شدید نکتہ چینی کی اور ان کے لیے موت، تباہی اور کمزوری جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ہلاری کلنٹن کو شکست دیں گے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے ہم جنس پرستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایل جی بی ٹی کے حقوق کی پاسبانی کرنے کی بات کہی اور کہا کہ وہ اس برادری کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔ دوسری جانب ہلاری کلنٹن کی مہم کے چیئرمین جان پوڈیستا نے ٹرمپ کی تقریر کو منقسم کرنے والی قرار دے کر ان پر نکتہ چینی کی۔ انھوں نے کہا: ’ڈونالڈ ٹرمپ نے زوال پذیر امریکہ کی سیاہ ترین شبیہ پیش کی ہے اور اس سے مزید خوف، مزید تقسیم، زیادہ غصّہ اور نفرتوں کا جواب ملتا ہے، یہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ان کا مزاج عہدہ صدارت کے لیے قطعی مناسب نہیں ہے۔‘ گذشتہ روز رپبلکن پارٹی کے ایک سینیئر رہنما ٹیڈ کروز نے بھی اسی کنونشن سے خطاب کیا تھا لیکن انھوں نے بھی ٹرمپ کی حمایت نہیں کی تھی جس کے سبب ان کی تضحیک کی گئی تھی۔ ریاست ٹیکساس سے سینیٹر ٹیڈ کروز بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہی صدارتی امیدوار کی ریس میں شامل تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس مقابلے میں دونوں ایک دوسرے کے سخت ترین حریف تھے۔

TOPPOPULARRECENT