Monday , October 23 2017
Home / مضامین / ڈونالڈ ٹرمپ کی بکواس ملالہ کو بری لگی

ڈونالڈ ٹرمپ کی بکواس ملالہ کو بری لگی

محمد فیاض
امریکی صدارتی عہدہ پر فائز ہونے کے خواب دیکھ رہے ڈونالڈ ٹرمپ نے جب سے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ان کے مخالفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کو ساری دنیا میں ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے اور دنیا اُمید کررہی ہے کہ امریکی عوام اس طرح کے نفرت انگیز نظریات رکھنے والے شخص کو بڑی حقارت کے ساتھ مسترد کردیں گے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی بکواس پر امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک میں سیاستدانوں ، دانشوروں ، حکومتوں اور عوام نے شدید برہمی ظاہر کی ہے ۔ ان میں نوبل لاریٹ ملالہ یوسف زئی بھی شامل ہیں۔ مبینہ طالبان کے ہاتھوں مرتے مرتے بچ جانے والی پاکستانی تعلیمی جہدکار ملالہ نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ کی شدید مذمت کی ۔ دنیا کی سب سے کم عمر نوبل لاریٹ کے خیال میں ٹرمپ کا تبصرہ نفرت سے پُر ہے اور دہشت گردی کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دینے یا مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرنے سے دہشت گردوں میں کمی نہیں بلکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا ۔ ملالہ یوسف زئی پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے خودکش حملوں کی پہلی برسی کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کررہی تھی ۔ اس واقعہ میں 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جن میں طلبہ کی اکثریت تھی ۔ پشاور سانحہ کی پہلی برسی کے موقع پر سارے پاکستان میں اسکول اور کالجس بند رہے ۔ آرمی پبلک اسکول میں خصوصی دعائیہ اجتماع کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانی صدر ، وزیراعظم اور فوجی سربراہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے میں غم زدہ ارکان خاندان اور اس سانحہ میں بچ جانے والوں کے ساتھ شامل رہے ۔ پشاور سانحہ کی برسی کے ضمن میں منگل کو برمنگھم میں بھی ایک تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ۔

عالمی خبررساں ادارہ اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے پرزور انداز میں کہا کہ ایسے ریمارکس سننا دراصل ایک المیہ ہے جو نفرت سے بھرے ہوں اس طرح کے ریمارکس اس نظریہ کی عکاس ہیں جو دوسروں کے تئیں امتیازی سلوک کا اظہار کرتا ہے۔ ملالہ کی طرح ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کی امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور دیگر ملکوں کے دانشوروں سیاستدانوں اور عوام نے شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ پر امن مسلمانوں کا داعش کے دہشت گردوں سے تقابل کررہے ہیں اور انہیں ان دہشت گردوں میں شامل بتانے کی کوشش کررہے ہیں ان کی اس زہر افشانی سے دنیا کے امن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے جو صدارتی امیدواری حاصل کرنے کے لئے ری پبلکن نامزدگی حاصل کرنے کے خواہاں ہے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ مسلمانوں اور داعش کے دہشت گردوں میں فرق کی اہلیت نہیں رکھتا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے حریف اور فلوریڈا کے سنیٹر مارکو روبیو نے ماضی میں ملالہ کی زبردست ستائش کرتے ہوئے اس خواہش کااظہار کیا تھا کہ وہ ملالہ جیسی غیر سیاسی شحصیت کے ساتھ بیر، (شراب کی ایک قسم) پینا چاہیں گے۔ ایک طرح سے انہوں نے ملالہ یوسف زئی کو ان کے آزادانہ رویہ کے لئے کو چیلنج کیا تھا حالانکہ ملالہ یوسف زئی ایک راسخ القعیدہ مسلمان ہے۔ اپنی بیٹی کے طرح ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی بکواس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 1.6 ارب مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنا غیر منصفانہ ہے۔ طالبان کی گولیوں سے زخمی ہونے کے بعد شہرت کی بلندیوں پر پہنچی ملالہ یوسف زئی نے انتباہ دیا ہے کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی سے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے ساری دنیا میں خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

ایسے میں یہ بہت اہم ہے کہ جو کچھ سیاستداں کہتے ہیں جو کچھ میڈیا پیش کرتا ہے اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے سیاستدانوں اور میڈیا کو محتاط رہنا چاہئے۔ ملالہ نے درست کہا ہے اس لئے کہ آج امریکہ، برطانیہ اور دیگر یوروپی ممالک میں اسلاموفوبیا کی جو لہر چل رہی ہے اس کے لئے ناعاقبت اندیش اور متعصب میڈیا کے ساتھ ساتھ ہمیشہ بھونکنے والے سیاستداں ذمہ دار ہیں اس کے برعکس عوام میں ایک دوسرے کے تئیں احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کون کس مذہب کس عقیدہ کس ذات اور کس رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ملالہ نے برمنگھم میں پشاور سانحہ کی برسی کے موقع پر دنیا بالخصوص امریکیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے واضح کردیا کہ اگر آپ کا ارادہ دہشت گردی کو روکنا ہے تو اس کے لئے سارے مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا یا ان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے کی کوششیں ترک کردیجئے کیونکہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے دہشت گردی کو روکنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے تو دہشت گردوں کی تعداد یں مزید اضافہ ہوگا۔ اپنی بیٹی کے خیالات کی تائید و حمایت کرتے ہوئے ضیا الدین یوسف زئی نے شرکاء سے کہا کہ اگر امریکی اپنے ملک میں نفرت کا پرچار کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو دہشت گردی کے خلاف امریکی حکومت اور اس کی انٹلی جنس ایجنسیوں نے جو حکمت عملی بنائی اور پالیسی خطعیت دی ہے وہ ناکام ہو جائے گی اور اس کا نقصان امریکہ، برطانیہ یا ڈونالڈ ٹرمپ کو نہیں بلکہ ساری انسانیت کو ہوگا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو جنہیں کارواں کا بھونکو (CARAVAN BARKER) کہا جاتا ہے کسی نہ کسی طرح امریکہ کے باوقار عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے خواہاں ہیں۔

اس کے لئے وہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر اگل رہے ہیں۔ ری پبلکن امیدواروں میں سب سے آگے چل رہے ٹرمپ نے امریکہ میں مساجد کی نگرانی کو سخت بنانے اور ملک میں مسلمانوں کے داخلہ پر عارضی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن ان کے اس نظریہ اور مطالبہ کو امریکی تاریخ کے تاریک لمحات قرار دے کر مسترد کیا جارہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے اکثر حریفوں نے اور ان کی ری پبلکن پارٹی کے بیشتر قائدین نے ان کی مسلم دشمن پالیسی سے عدم اتفاق کرتے ہوئے اسے بڑی حقارت سے مسترد کردیا۔ یہاں تک کہ سنیٹر ٹیڈ کروز نے جن کا تعلق ٹیکساس سے ہے اور جنہوں نے اکثر مسائل پر قدامت پسندانہ موقف اختیار کیا تھا منگل کی رات برسر عام اس بات کا اعلان کیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا نظریہ بالکل غلط ہے۔ مسٹر کروڑ نے مسلمانوں کی تائید و حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں امن پسند مسلمان ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ہندوستان جیسی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے وہاں کوئی مسائل نہیں ہیںبلکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں کی صورتحال بالکل قابو میں ہے۔ مسٹر کروز کے مطابق یہ ایک مذہب یا عقیدہ کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ یہ جنگ سیاسی اور نظریاتی جنگ ہے جو ہمارے قتل کے درپر ہے۔ جہاں تک ملالہ یوسف زئی کی جانب سے ڈونالڈ ٹرمپ کی مذمت کئے جانے کا سوال ہے ملالہ نفرت و عداوت اور دہشت گردی و شدت پسندی کے تباہ کن اثرات اور نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس نے برطانیہ کے چیانل 4 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ جتنا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتیں کریں گے۔  اس سے مزید دہشت گرد پیدا ہوں گے ایسے میں سیاستدانوں اور میڈیا کو کچھ کہنے اور پیش کرنے میں انتہائی محتاط رہنا چاہئے۔ انہیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ آخر وہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے جہاں تک امریکی سیاست میں مسلمانوں کے خلاف ریمارکس کے جگہ پانے کا تعلق ہے۔

اس کی بنیاد اگرچہ سے پہلے سے پڑچکی تھی لیکن وہ چند ایک اسلام دشمن تنظیموں تک محدود تھی لیکن اس مرتبہ صدارتی عہدہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں سے نفرت کے معاملہ میں تمام حدود پار کر دیئے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری سے لے کر پنٹگان سربراہ اور امریکی سنیٹرس اور دانشوروں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر امریکی معاشرہ کو مذہب اور عقیدہ کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہونے کا الزام عائد کیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکی عوام جن میں عسیائی مسلمان اور یہودی سب شامل ہیں ڈونالڈ ٹرمپ کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ سینڈرس نے واشنگٹن کی مسجد محمد میں منعقدہ کل مذہبی اجلاس میں سینئر بورنٹی سینڈرس نے شرکت کی اس اجلاس کا مقصد امریکی معاشرہ کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو یہ پیام دینا تھا کہ امریکی عوام کو عیسائی یہودی اور مسلمان میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اس موقع پر سینڈرس کا کہنا تھا کہ آج ہمیں اتحاد و اتفاق یا انتشار کامسئلہ درپیش ہے ایسے میں ہم تمام امریکیوں کو یہ سوچنا ہے کہ ہمیں آپسی اتحاد عزیز ہے یا پھر ہم ہمیں تقسیم کرنے والی طاقتوں کو اس کی اجازت دے دیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اگرچہ اپنے متعصب بیانات کے ذریعہ قومی میڈیا کی توجہ حاصل کرلی ہے، لیکن مسٹر سینڈرس نے اس کی جس انداز میں مذمت کی ہے اور ٹوئٹر پر جو ٹوئیٹ کیا ہے 13000 سے زائد لوگوں نے اسے شیر کیا ہے۔ سینڈرس دراصل اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کے مسلمانوں سے قربت حاصل کرنے کی مہم سے کافی متاثر ہیں کیونکہ گزشتہ ہفتہ مسٹر مارٹن اومالے نے شمالی ورجنیا کی ایک مسجد کا دورہ کیا تھا جبکہ ہلاری کلنٹن نے مینیاپولیس میں منگل کو مسلم قائدین سے ملاقات کی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT