Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی اور مسلم دنیا

ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی اور مسلم دنیا

دل کو منظور نہیں آپ کا احساں کوئی
دَرد سے بڑھ کے نہیں درد کا درماں کوئی
ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی اور مسلم دنیا
امریکی صدارتی انتخاب پر کئی ملکوں کے تاریخ داں اس بحث میں الجھ گئے ہیں کہ آخر امریکہ میں مشکل کے دن ایسا کیا ہوا کہ ری پبلکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو ان کی ڈیموکریٹک حریف امیدوار ہلاری کلنٹن کے مقابل اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ 18 ماہ کی لگاتار انتخابی مہم کے بعد آخری ووٹوں میں ہلاری کلنٹن کو چار فیصد ووٹوں کی سبقت حاصل ہونے کے باوجود رائے دہی کے دن یہ پانسہ کس طرح پلٹ گیا یہ غور طلب امر ہے۔ یا تو انتخابی مہم کے دوران کروائے گئے سروے غلط تھے یا پھر ٹرمپ کو ہر ریاست میں ہلاری سے پیچھے دکھاکر امریکی رائے دہندوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے مجبور کردیا گیا۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کو بہت ہی پیچھے رہنے والے امیدوار ظاہر کیا گیا تھا لیکن نتائج نے انہیں یہاں سب سے زیادہ کامیاب بنادیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی عوام کی رائے دہندوں کے ذہن کو پڑھنے میں کہنہ مشق سیاستداں اور تجربہ کار بھی ناکام رہے۔ کلنٹن کے کیمپ میں پیر کی شام تک یہی پراعتمادی دیکھی جارہی تھی کہ وہ بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہوں گی مگر یہ حد سے زیادہ پراعتمادی بھی غلط ثابت ہوئی۔ نارتھ کیرولینا، ورجینیا کے نتائج نے ہلاری کلنٹن کی خودساختہ اکثریت کو بھی غلط ثابت کردیا۔ ٹرمپ کی اس کامیابی میں ان کی مخالف مسلم سوچ، اسلام دشمن پالیسیاں اور ایمگریشن کے تعلق سے ان کی پالیسیوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔ امریکی سفید فام رائے دہندوں کے اکثریتی ووٹوں نے ٹرمپ کو وائٹ ہائوز تک پہونچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ امریکی نوجوان نسل کی اکثریتی ووٹ بھی ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی میں معاون ثابت ہوئے۔ صرف جون 2015ء میں سرگرم سیاست میں قدم رکھنے والے ٹرمپ نے امریکہ کی کہنہ مشق سیاستداں کو وائٹ ہائوز تک پہونچنے میں ناکام بنادیا۔ اس کی اصل وجوہات بھی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ان کی سوچ اور رائے ہوسکتی ہے۔ مغربی اقوام کے سفید فام شہریوں میں بڑھتی قوم پرستی نے بھی عالمی رجحان کو اجاگر کردیا ہے۔ ٹرمپ کی کامیابی نے جہاں امریکیوں کی بڑی تعداد کی رائے کا علم ہوا ہے وہیں عالم اسلام اور مسلم دنیا میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے۔ مگر یہ تشویش عارضی حیثیت رکھے گی کیوں کہ عالم اسلام اور مسلم دنیا کی طاقت کے سامنے ٹرمپ کا قد پست ہی رہے گا۔ ٹرمپ نے اورلینڈو فائرنگ واقعہ کے بعد تمام مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک دینے کی بات کہی تھی۔ مفکرین اسلام کا ایقان ہے کہ یہ نتائج دہشت گردوں کے لئے ایک طاقت کا کھیل ثابت ہوں گے۔ گزشتہ سال ڈسمبر میں اسلام کے تعلق سے متنازعہ ریمارکس کرنے والے ٹرمپ کے بارے میں یہی سوچا گیا تھا کہ وہ امریکی صدارت کے لئے غیر موزوں امیدوار ہیں مگر امریکہ کی اکثریتی آبادی نے ساری دنیا کو پھر ایک بار حیرت انگیز نتائج سے دوچار کردیا۔ ری پبلکن پارٹی کے منتخب امیدوار کے سامنے بہت بڑی ذمہ داریاں کھڑی ہیں۔ اگر وہ ایک سوپر پاور ملک کے صدر بن جانے کے بعد بھی اپنی سوچ کا زاویہ تبدیل نہ کریں تو پھر انتہاپسندانہ سرگرمیاں دہشت گردانہ کارروائیوں کا تسلسل ختم نہیں ہوگا۔ امریکہ اور مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو کشیدگی کے دہانے تک لے جانے کے نتائج بھی سنگین ہوسکتے ہیں ۔ اگر ٹرمپ کی صف میں شامل لوگ اسلام دشمن پالیسیوں کو سخت ترین بنانے کو ترجیح دیں گے۔ تو عالمی سطح پر موجود مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہاں تک مشرق وسطی کی صورتحال کا سوال ہے امریکہ کا آنے والا سربراہ ہو یا ماضی کے حکمراں ان کی پالیسیوں میں یکسانیت دیکھی جاسکتی ہے۔ اوباما نظم و نسق نے مشرق وسطی میں نصف درجن جنگیں شروع کی تھیں، نصف ملین عوام کی ہلاکتیں ہوئیں اور 12 ملین پناہ گزین بن گئے۔ اب ٹرمپ کے آجانے سے مسلم دنیا کے خائف ہوجانے کا خیال گشت کروانا بھی غلط ہے کیوں کہ مسلم دنیا کسی بھی صورت ٹرمپ سے خائف نہیں ہوگی، البتہ امریکہ کے ان نتائج نے مسلم دنیا کو چوکس اور چوکنا ہوجانے کا اشارہ دے دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT