Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد مسلمانوں پر نفرت انگیز حملوں میں اضافہ

ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد مسلمانوں پر نفرت انگیز حملوں میں اضافہ

۔9 نومبر کے بعد دو ہفتوں میں 701 واقعات، تازہ واقعہ میں نیو میکسیکو کے اسٹور میں حجاب پوش خاتون پر حملہ اور بدکلامی
لاس اینجلس ۔ 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ایک اسٹور میں ایک حجاب پوش خاتون کو دوسری خاتون نے ڈھکیل دیا اور اس کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’تم اس ملک سے چلے جاؤ‘‘۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد حجاب پوش خواتین پر بڑھتے ہوئے نفرت انگیز حملوں کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ امریکہ میں حالیہ عرصہ کے دوران نفرت پر مبنی حملوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف 700 سے زائد نفرت پر مبنی حملے ہوئے ہیں اور یہ  جرائم 9/11 دہشت گرد حملوں کے بعد ہونے والے حملوں سے شدت انگیز حملوں کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ سی بی ایس سے ملحقہ کے آر کیو ای ٹیلیویژن نے کہا کہ یہ واقعہ نیو میکسیکو کے البوکرکی شہر میں واقع اسمتھس اسٹور میں پیش آیا۔ ایک چشم دید گواہ ربنی لوپیز کے حوالے سے کہا گیا ہیکہ ’’میں سوڈالا نے وہاں پہنچا تھا کہ اچانک میں نے سنا کہ کوئی اس (حجاب پوش خاتون) کو جھڑک رہی ہے۔ اس سے کہہ رہی ہیکہ ملک سے چلے جاؤ۔ تم یہاں کے نہیں ہو۔ تم دہشت گرد ہو وغیرہ وغیرہ‘‘۔ لوپیز نے کہا کہ اس مرحلہ پر ہر کوئی اپنا کام روک دیا اور حجاب پوش خاتون کو بچانے کیلئے دوڑ پڑے۔ لوپیز نے ایک تصویر بھی لی ہے جو کسی قدر دھندلی ہے جس میں ایک خاتون کو حجاب پوش خاتون پر چیخ پکار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

گڑبڑ کرنے والی خاتون سن گلاس لگائی ہوئی اور ہیٹ پہنی ہوئی تھی۔ اسمتھ اسٹور کے ملازمین حجاب پوش خاتون کو بچانے کیلئے جمع ہوگئے تھے۔ پرنی لوپیز نے کہا کہ ’’ایک اور خاتون بھی وہاں حجاب پوش خاتون کو بچانے کیلئے آگئی اور اس نے سہمی ہوئی حجاب پوش خاتون کو گلے لگا کر اپنے بازوؤں میں تھام لیا تھا۔ اس وقت تک اسمتھ اسٹور کے ملازمین بھی وہاں پہنچ گئے تھے جنہوں نے اس خوفزدہ خاتون کو اپنے گھیرے میں لے کر اس کی کار میں پہنچا دیا اور اس کا سامان کار میں رکھنے میں مدد کی۔ اسٹور کے منیجر نے اس واقعہ کی توثیق کی اور کہا کہ حجاب پوش خاتون اس چیخ پکار کے باوجود پرعزم اور مضبوط نظر آرہی تھی۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا لیکن اس وقت تک گالی گلوج کرنے والی خاتون جاچکی تھی۔ قبل ازیں مشی گن یونیورسٹی میں ایک نامعلوم شخص نے ایک  حجاب پوش طالبہ کے قریب پہنچ کر گالی گلوج کیا تھا اور چہرہ سے حجاب نہ ہٹانے کی صورت میں اس مسلم طالبہ کو زندہ جلادینے کی دھمکی دی تھی۔ منی سوٹا میں بھی ایک مسلم طالبہ کے حجاب کو اس کے کلاس میٹ نے نکال دیا تھا اور اس کے سر کے بال پکڑ کر کھینچ دیا تھا۔ جارجیا میں ایک ہائی اسکول ٹیچر کو موصولہ گمنام تحریری مکتوب میں دھمکی دی گئی تھی کہ اس ٹیچر کو اس کے حجاب کے ساتھ لٹکا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف حملوں میں زبردست اضافہ کے درمیان ایک خاتون کو کسی مسلم خاتون سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’میں تیرے منہ پر تھوک دوں گی۔ تو گندی کتیا۔ مجھے تجھ سے افریقہ جیسی بو آتی ہے‘‘۔ دہشت گردوں کے موضوع پر مہارت رکھنے والے سدرن پاور کی لاء سنٹر کے مارک پوٹوک نے کہا کہ نفرت پر مبنی حملوں سے ڈونالڈ ٹرمپ جیسی عوامی شخصیات کے لب و لہجہ کی جھلک ملتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT