Friday , August 18 2017
Home / دنیا / ڈونالڈ ٹرمپ کے مسلم دشمن بیان کی مذمت

ڈونالڈ ٹرمپ کے مسلم دشمن بیان کی مذمت

آکلینڈ۔13 ڈسمبر ( سید مجیب کی رپورٹ ) آکلینڈ و نیوزی لینڈ مسلم اسوسی ایشن کے زیراہتمام آکلینڈ یوم انسانی حقوق کے سلسلہ میں ایک مخالف دہشت گردی کثیر مذہبی اجتماع منعقد کیا گیا ۔ صدر اسوسی ایشن اخلاق کاشکری کی اطلاع کے بموجب اجتماع کا آغاز شیخ سرفراز کی تلاوت کلام پاک اور اس کے انگریزی ترجمہ کے ذریعہ ہوا ۔ اجتماع میں مسلم طبقہ کی نمائندگی جناب فاروق ‘ عیسائیوں کی فادر کیوون ٹومی ‘ یہودی طبقہ کی ربی برینٹ گیمسن ‘ بدھسٹ کی عیسن مینش‘ ہندو طبقہ کی پنڈت کرن سندھر نے کی اور حاضرین سے انسداد دہشت گردی کے موضوع پر خطاب کیا ۔ دہشت گردوں کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کو اُجاگر کیا ۔ ہر مذہبی رہنما نے کہا کہ کسی بھی مذہب کی تعلیم دوسرے مذاہب کے پیروؤں سے نفرت کرنے پر ان سے تعصب رکھنے کی نہیں ہے ۔ ہر مذہب انسانی حقوق کے احترام کی تلقین کرتا ہے ۔ دہشت گردوں کا درحقیقت کوئی مذہب نہیں ہوتا ‘ وہ صرف مذہب کی آڑ میں مذہبی تعلیمات پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ حاضرین سے سرپرست اعلیٰ نیوزی لینڈ اردو ہندی کلچرل اسوسی ایشن رکن پارلیمنٹ جناب کنول جیت سنگھ بخشی اور رکن پارلیمنٹ وسابی ‘ وزیر خارجہ نیوزی لینڈ فل گولیٹ نے بھی خطاب کیا ۔ رکن پارلیمنٹ کمل جیت سنگھ بخشی نے اپنی تقریر میں علامہ اقبال کا مصرعہ ’’ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ‘‘  کا بھی حوالہ دیا ۔

عالمی یوم انسانی حقوق کے موقع پر منعقدہ اس بصیرت افروز محفل کا اختتام کثیر مذہبی دعائیہ اجتماع پر ہوا جس میں عالمی امن اور خوشحالی کیلئے دعا کی گئی ۔ امریکہ کے ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پرامتناع عائد کردینے اور داخل ہونے کی صورت میں انہیں پھانسی پر چڑھا دینے کے بیان کی تمام مقررین نے شدید مذمت کی اور اسے انتہائی تعصب اور عدم رواداری پر مبنی بیان قرار دیا گیا ۔

نیوزی لینڈ میں 12عراقی نژاد خواتین کی ہراسانی
٭٭  نیوزیلینڈ کی12 عراقی نژاد خاتون شہریوں کو داعش سے روابط رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہراساں کیا جارہا ہے ۔ ان کی سختی سے نگرانی کی جارہی ہے اور وقفہ وقفہ سے ان سے تفتیش کی جارہی ہے حالانکہ تمام خواتین نے سختی سے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے والدین سے ملاقات کیلئے عراق گئی تھیں ‘ حالانکہ وہ وقت مقررہ کے اندر نیوزی لینڈ واپس آگئی ہیں لیکن ان پر شبہ کیا جارہا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے شادیاں کر کے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ’’جہادیوں کی دولہنیں ‘‘ بننے کیلئے اس سفر پر گئی تھیں اور نیوزی لینڈ کی نوجوان لڑکیوں کو سبز باغ دکھاکر انہیں جہادیوں کی دلہنیں بننے کی ترغیب دینے کیلئے واپس آئی ہیں ۔ حالانکہ ان تمام نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے لیکن نیوزی لینڈ کے سراغ رساں اسے تسلیم کرنے تیار نہیں ہیں اور نہ صرف ان خواتین پر بلکہ ان کے ملاقاتیوں پر بھی گہری نظر رکھی جارہی ہے

TOPPOPULARRECENT