Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / ڈوپنگ تحقیقات، روس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی کا امکان

ڈوپنگ تحقیقات، روس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی کا امکان

ماسکو۔20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ روسی حکومت کی سربراہی میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کرنے کے شواہد سامنے آنے کے بعد روس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔ ڈوپنگ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2011 تا 2015 کے عرصے میں موسم سرما اور موسم گرما کی اولمپکس کے دوران روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری ’کرنے کے علاوہ ان کی نگرانی کی۔ رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقدہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لئے ڈوپنگ پروگرام جاری کیا تھا۔ روس پر پانچ اگست کو برازیل کے شہر ریو میں شروع ہونے والے اولمپکس میں پابندیوں کا امکان ہے۔موسم گرما کے اولمپکس میں روس کی پابندی کے مطالبوں پرآئی او سی یعنی اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی طے کرے گی کہ آیا عارضی طور پر روس پر پانچ اگست کو شروع ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی جائے۔ ڈوپنگ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کینیڈا سے تعلق رکھنے والے قانون اور کھیلوں کے پروفیسر رچرڈ مکلیرن نے کی تھی۔رچرڈ مکلیرن نے کہا ہے کہ انھیں تحقیقات میں سامنے آنے والے نتائج پر ’پوری طرح اعتماد‘ہے۔یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔ گرگوری روڈ چنکاف کے بموجب انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔ ان الزامات کو ثابت کرنے کیلئے رچرڈ مکلیرن نے لوزان میں واقع انسداد ڈوپنگ لیبارٹری میں رکھے جانے والے 2014 کی سوچی کھیلوں کے پیشاب کے نمونوں کو لندن میں واقع ایک اور لیبارٹری میں یہ دیکھنے کے بھیجا کہ کیا بوتلوں پر کھرچنے کے نشان تھے یا نہیں۔
مکلیرن نے کہا کہ بوتلوں کو ’100 فیصد کھرچا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT