Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / ڈوکلم سے ’عاجلانہ تخلیہ‘ پر اتفاق ،ہندوستانی فوجیوں کی واپسی شروع

ڈوکلم سے ’عاجلانہ تخلیہ‘ پر اتفاق ،ہندوستانی فوجیوں کی واپسی شروع

وزارت خارجہ کا بیان ۔ چینی فوجیوں کا موقف مبہم ۔ بریکس سمٹ سے ایک ہفتہ قبل تبدیلی
نئی دہلی ؍ بیجنگ ، 28 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور چین نے ڈوکلم میں سرحد پر متعین جوانوں کے ’’عاجلانہ تخلیہ‘‘ سے اتفاق کرلیا ہے، نئی دہلی نے آج یہ بات کہی۔ یہ تبدیلی چین میں منعقد شدنی بریکس سمٹ سے ایک ہفتہ قبل رونما ہوئی ہے ، جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت متوقع ہے۔ ایک بڑی سفارتی کامیابی میں وزارت امور خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں نے ’’سفارتی رابطہ‘‘ قائم رکھا اور اپنی بات، فکرمندی اور مفادات کا اظہار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انڈین آرمی کے ذرائع نے کہا کہ سکم کے قریب ڈوکلم سے دستوں کی واپسی شروع ہوگئی۔ ہندوستان نے وہاں تقریباً 350 فوجی جوان تعینات کئے تھے۔ دونوں ملکوں کے فوجی دستے 16 جون سے ڈوکلم میں کشیدگی و تعطل سے دوچار تھے جبکہ ہندوستانی دستوں نے متنازعہ علاقہ میں چینی آرمی کو سڑک تعمیر کرنے سے روکا تھا۔ وزارت کے بیان میں صاف صاف نہیں کہا گیا کہ آیا چینی اور ہندوستانی دستوں نے اُس علاقے سے دستبرداری اختیار کرلی ہے لیکن چین نے آج ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ہندوستانی دستوں نے واقعتاً قدم پیچھے ہٹالئے ہیں۔ تاہم، چین خود اپنے دستوں کے موقف کے تعلق سے بدستور مبہم ہے۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ ہوا چون یینگ نے بیجنگ میں میڈیا کو بتایا کہ وہاں موجود چینی دستوں نے اس تبدیلی کی تصدیق کی ہے۔ چین نے اپنا اقتدار اعلیٰ قائم رکھا ہوا ہے۔ چین صورتحال کے مطابق ضروری تبدیلی کرتا رہے گا۔ یہ پوچھنے پر آیا چینی بیان کا مطلب ہے کہ چین نے کوئی رعایت نہیں برتی ہے، نئی دہلی میں عہدیداروں نے کہا کہ عاجلانہ تخلیہ کا مفہوم دونوں فریقوں کی دستبرداری ہے کیونکہ ہندوستان کی جانب سے یکطرفہ دستبرداری کی حاجت ہی نہ ہوتی یا چین کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت نہ ہوتی۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں ہندوستان اور چین نے ڈوکلم میں پیش آئے واقعہ کے تعلق سے سفارتی رابطہ برقرار رکھا تھا۔ ان رابطوں کے دوران ہم نے ایک دوسرے کو اپنے احساسات اور مفادات سے واقف کرایا۔ اس بنیاد پر ڈوکلم میں متنازعہ مقام پر سرحدی جوانوں کے عاجلانہ تخلیہ سے اتفاق کیا گیا اور یہ جاری ہے۔ چینی ترجمان چون یینگ نے کہا کہ ہندوستانی سپاہیوں اور سازوسامان کو سرحد کی ہندوستانی سمت پیچھے ہٹا لیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ چین کی طرف سے ڈوکلم علاقہ میںطلایہ گردی بدستور جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین نے اقتدار اعلیٰ اور علاقائی سالمیت کو تاریخی کنونشن کی مطابقت میں برقرار رکھا ہوا ہے۔ بریکس سمٹ جو برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ کو یکجا کرتی ہے، چینی شہر ژیامین میں 3 تا 5 ستمبر مقرر ہے۔ وزیر امور خارجہ سشما سوراج نے حال ہی میں کہا تھا کہ دونوں فریقوں کو پہلے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹانا چاہئے جس کے بعد ہی کوئی بات چیت ہوسکتی ہے، اور اس سرحدی تعطل کی پُرامن یکسوئی پر زور دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT