Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈپٹی چیف منسٹر اور قائد اپوزیشن کونسل میں لفظی جھڑپ

ڈپٹی چیف منسٹر اور قائد اپوزیشن کونسل میں لفظی جھڑپ

آپ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں : محمود علی              آپ بے بس ہیں : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔ 21 اپریل (سیاست نیوز) مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر محمد محمود علی اور قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی ہے۔ مسٹر محمد محمود علی نے مسلم تحفظات پر پیش کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کو کانگریس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت قرار دیا جبکہ مسٹر محمد علی شبیر نے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی کو معصوم ، بے بس اور مسلم تحفظات سے لاعلم قرار دیا۔ واضح رہے کہ 19 اپریل کو قائد اپوزیشن مسٹر محمد علی شبیر نے مسلم تحفظات پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر 12% مسلم تحفظات پر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا تھا جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ 2014ء سے تلنگانہ کے عوام کانگریس کو نظرانداز کررہے ہیں جس سے کانگریس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سیاسی طور پر بیروزگار ہوجانے والی کانگریس پارٹی اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے تمام سیاسی ہتھکنڈوں کو اپنا رہی ہے۔ مسلم تحفظات پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ عوام کی نبض پہنچانتے ہیں۔ 12% مسلم تحفظات کی فراہمی کے معاملے میں ٹی آر ایس حکومت پابندعہد ہے۔ حکومت کو کانگریس کے مفت مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ بہتر ہے کانگریس عوام کو گمراہ کرنے کی پالیسی سے باز آجائے۔ وعدے کے مطابق مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے  جائزہ لینے کیلئے سدھیر کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ کمیشن اپنا کام کررہا ہے۔ رپورٹ وصول ہوتے ہی مسلمانوں سے کیا گیا کہ وعدہ پورا کیا جائے گا۔ کانگریس نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر ایوانوں میں قرارداد منظور کئے بغیر تحفظات فراہم کئے تھے جس کی وجہ سے مسلم تحفظات عدالتی کشاکش کا شکار ہیں۔ کانگریس نے جو غلطی کی ہے، وہ ٹی آر ایس حکومت نہیں دہرائے گی۔ اس لئے 12% مسلم تحفظات کی فراہمی میں تھوڑا وقت لگ رہا ہے۔ قائد اپوزیشن مسٹر محمد علی شبیر نے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی کو معصوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم تحفظات سے لاعلم ہے۔ انہیں مسلم تحفظات کے بارے میں کوئی شعور نہیں ہے، لہٰذا وہ ڈپٹی چیف منسٹر کے ریمارکس پر کوئی ردعمل کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھتے، البتہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر مسلم تحفظات پر کوئی ریمارک کرتے ہیں، وہ اس پر ضرور ردعمل کا اظہار کریں گے۔    (سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT