Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈگری آن لائن سرویس کے ذریعہ داخلے

ڈگری آن لائن سرویس کے ذریعہ داخلے

lنوکریاں ملنے والے کورس پڑھائے جائیں ، چیف منسٹر کی ہدایت
lحکومت کی پالیسی سے اقلیتی تعلیمی اداروں کا اختلاف
حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ کے کالجس میں ڈگری سطح پر داخلے آن لائن ہوں گے ۔ ڈگری آن لائن سرویس تلنگانہ (DOST) جلد شروع ہوگی اور DOST کے ذریعہ داخلے ہوں گے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کل اپنے کیمپ آفس میں محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ڈگری آن لائن سرویس کے آغاز کے ساتھ طلبہ کو داخلہ فیس داخل کرنے کالجس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ طلبہ جہاں تعلیم حاصل کرنا چاہیں اس کالج کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔ آن لائن داخلوں کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس طرح فیس واپسی اسکیم میں ہونے والی بے قاعدگیاں ختم ہوں گی ۔ پروفیشنل کورسیس کی طرح ڈگری کالجس میں داخلے اور ٹیوشن فیس کا تعین کرے گی ۔ دیہی علاقوں میں موجود ڈگری کالجس کی فیس کم ہوگی ۔ فیس کا تعین متعلقہ ڈگری کالجس کے انتظامیہ سے مشاورت کے ذریعہ ہوگا ۔ حکومت ڈگری کالجس کی خود اختیار ، پریمیر اقلیتی اور دیگر کی حیثیت سے درجہ بندی کرے گی ۔ چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں سے کہا کہ گریجویٹ تعلیم کے موجودہ سسٹم پر نظر ثانی کی جائے اور نصاب ایسا ہو کہ طلبہ تعلیم پاکر نوکریاں حاصل کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں معمول کے کورسیس کو بالکل بدل دیا جائے موجودہ نظام تعلیم میں کافی تبدیلیاں لانے کے لیے نئی تعلیمی پالیسی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ کالج انتظامیہ کو بھی تعاون کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے ان کالجس کے مینجمنٹس کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا ۔ جہاں طلبہ کے بغیر تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں اور فرضی فیکلٹی بنائی جارہی ہے ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ایسے پروفیشنل کالجس کو خود مینجمنٹ کی طرف سے بند کردیا جانا چاہئے ۔ جہاں لکچررز بھی نہیں ہیں اور طلبہ بھی نہیں ہیں اور کالجس کے نام پر سرکاری فنڈس ہڑپ لیے جارہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے ریاستی یونیورسٹیز کی حالت زار پر بھی تنقید کی اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ یونیورسٹیز کی حالت سے متعلق جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ مناسب کارروائی کی جاسکے ۔ اس دوران خود اختیار اور اقلیتی کالجس نے آن لائن کونسلنگ سے متعلق حکومت کے یکطرفہ فیصلہ کے جواز کو چیلنج کیا اور حیرت ظاہر کی کہ حکومت فیصلہ کرنے کے بعد کالجس سے مشورہ مانگ رہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے 2002 میں اپنے فیصلہ میں اقلیتی کالجس کو تعلیمی انتظامی اور مالیاتی خود اختیاری دی ہے ہر اقلیتی ادارہ اپنے طور پر فیس کا تعین کرسکتا ہے ۔ اس پس منظر میں حکومت سب کے لیے یکساں فیس کیسے مقرر کرسکتی ہے ۔ مختلف اقلیتی اور خود اختیار کالجس کے مینجمنٹس نے حکومت کے فیصلہ کے قانونی جواز کو چیلنج کیا اور کہا کہ حکومت نے بڑی جلد بازی کی ہے کالجس اور طلبہ کو واقف کرائے بغیر فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT