Wednesday , May 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈگ وجئے سنگھ پر ذہنی طور پر معذور ہونے کا الزام

ڈگ وجئے سنگھ پر ذہنی طور پر معذور ہونے کا الزام

تلنگانہ ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ ، جناب محمد فاروق حسین کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے ڈگ وجئے سنگھ کو ذہنی طور پر معذور قرار دیتے ہوئے پولیس پر لگائے الزام کا ثبوت پیش کرنے یا معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ محمد فاروق حسین نے کہا کہ تلنگانہ ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ ہے اور چیف منسٹر اس کے علمبردار ہے ۔ گذشتہ تین سال کے دوران ٹی آر ایس کے دور حکومت میں ایک بھی فرقہ وارانہ واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کوئی دہشت گردی کا مظاہرہ ہوا ہے ۔ تلنگانہ کے علاوہ سارے ملک میں کانگریس چاروں خانے چت ہے گوا میں جہاں کے ڈگ وجئے سنگھ انچارج تھے حالیہ اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے کے باوجود ڈگ وجئے سنگھ کی نا اہلی سے بی جے پی نے حکومت تشکیل دی ہے ۔ جس پر کانگریس ہائی کمان نے ڈگ وجئے سنگھ کو گوا اور کرناٹک کی ذمہ داریوں سے ہٹادیا ۔ جس سے ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے ۔ دوسری طرف چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے لیے اسمبلی اور کونسل میں بل منظور کردی ہے ۔ جس سے ڈگ وجئے سنگھ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی انچارج شپ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ پارٹی ہائی کمان کی خوشنودی حاصل کرنے اور تلنگانہ کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ڈگ وجئے سنگھ نے تلنگانہ کی پولیس پر داعش کی فرضی ویب سائٹ تیار کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس کی ٹی آر ایس سخت مذمت کرتی ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ اپنے الزامات کا ثبوت پیش کریں یا غیر ذمہ دارانہ الزام سے دستبرداری اختیار کریں بصورت دیگر ڈگ وجئے سنگھ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا کانگریس کے دور حکومت میں گجرات ، دہلی کے علاوہ دوسری ریاستوں کی پولیس حیدرآباد و تلنگانہ پہونچکر مسلمانوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں ایسا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا اور نا ہی مستقبل میں پیش آئے گا ۔ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کی تعلیمی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے اور ترقیاتی کاموں میں برابر کا حصہ دار بنا رہی ہے ۔ عوامی تائید سے محروم ہونے والی کانگریس کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ اپنی کمزوریوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کانگریس کے قائدین ٹی آر اسے حکومت ، چیف منسٹر اور ان کے ارکان خاندان کے خلاف من گھڑٹ بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے بستر مرگ پر موجود کانگریس کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ لیکن وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ ریاست کے عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT