Tuesday , June 27 2017
Home / مضامین / ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات، تحقیقات ضروری

ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات، تحقیقات ضروری

کسانوں نے مرچ جلادی
ٹی آر ایس مرکز کی خوشنودی حاصل کرنے کوشاں

محمد نعیم وجاہت
جیسے ہی مرکز سے وسط مدتی انتخابات کے اشارے ملنے لگے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ورنگل میں جلسہ عام کا انعقاد کرتے ہوئے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ٹی آر ایس انتخابات کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لگ بھگ تین سال بعد ٹی آر ایس کو ذہنی طور پر طاقتور بنانے کیلئے کے سی آر نے اقتدار کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ سماج کے ہر طبقہ کیلئے کوئی نہ کوئی اسکیم متعارف کراتے ہوئے یقینا عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ 75 لاکھ پارٹی کی رکنیت کو قطعیت دیتے ہوئے سارے ملک کو یہ تاثر دیا  ہیکہ ٹی آر ایس سیمی ریجنل پارٹی ہونے کے باوجود تلنگانہ میں دوسری قومی اور مقامی جماعتوں سے کسی بھی معاملے میں کم نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی میں منعقدہ نیتی آیوگ کے اجلاس میں جس میں ملک کے تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس نے شرکت کی تھی، مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ’’ون نشین ون الیکشن‘‘ کی بات چھیڑ دی ہے۔ اس اجلاس میں دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس چندرشیکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو بھی موجود تھے۔ تلگو ریاستوں کے دونوں چیف منسٹرس میں مودی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایک عرصہ سے مسابقت چل رہی ہے۔ تلگودیشم این ڈی اے کی حلیف ہے۔ تلگودیشم نے بی جے پی سے اتحاد کرتے ہوئے انتخابی مقابلہ کیا ہے لیکن ٹی آر ایس مرکز اور مودی سے قریب ہونے کا کوئی بھی موقع گنوانا نہیں چاہ رہی ہے۔ غیر این ڈی اے جماعتوں میں نوٹ بندی کے معاملے میں کے سی آر نے سب سے پہلے مرکز کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے مودی کو یہ پیغام دیا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ موجودہ دور میں سیاسی طور پر چانکیہ کے طور پر ابھرنے والے وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی پر مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس پر ایک کمیٹی تشکیل دی اور چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کو اس کمیٹی کا کنوینر بنادیا اور حیرت کی بات یہ ہیکہ اس کمیٹی میں سب سے پہلے نوٹ بندی کی تائید کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ کو شامل بھی نہیںکیا گیا۔ وسط مدتی انتخابات کیلئے بھی تلنگانہ تیار ہونے کا کے سی آر نے ورنگل میں جلسہ عام کا انعقاد کرتے ہوئے ثبوت دیا ہے۔ صدارتی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ سونیا گاندھی اپوزیشن جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایک ہی امیدوار کو میدان میں اتارنے کے مذاکرات جاری ہیں۔ ٹی آر ایس نے مرکز سے تائید طلب کرنے سے قبل این ڈی اے کی مشروط تائید کرنے کا ا علان کردیا۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے قائد کی ذمہ داری ادا کرنے والے جتیندر ریڈی نے اعلان کردیا کہ اگر مرکز ریاست سے تعاون کرتا ہے تو ٹی آر ایس صدارتی انتخابات کیلئے این ڈی اے امیدوار کی تائید کرے گی۔ ٹی آر ایس ہر معاملے میں مودی کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے عجلت میں فیصلے کررہی ہے۔ ہوسکتا ہے یہ ٹی آر ایس کی کوئی حکمت عملی ہوگی مگر ایسے فیصلے ٹی آرایس کیلئے ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کے مترادف ثابت ہورہے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد صدارتی انتخابات کیلئے ٹی آر ایس نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آئندہ ماہ 2 جون کو تشکیل تلنگانہ ریاست کے تین سال مکمل ہورہے ہیں۔ تقسیم آندھراپردیش کے بل پر ریاست تلنگانہ کیلئے جو تین اہم وعدے کئے گئے تھے اس کو حاصل کرنے کیلئے مرکز کو راضی کرانے میں ٹی آر ایس حکومت پوری طرح ناکام ہے۔ کھمم میں اسٹیل فیکٹری، ورنگل میں ریلوے کوچ فیکٹری، کریم نگر میں این ٹی پی سی گرڈ پر مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ اس کے علاوہ ہائیکورٹ کی تقسیم کا بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کو ٹاملناڈو کے طرز پر تحفظات فراہم کرنے کیلئے تلنگانہ کے اسمبلی و کونسل میں بل منظور کرکے مرکز کو روانہ کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے اور بھی کئی مسائل ہیں، جس کیلئے مرکز کی توجہ ضروری ہے۔ کچھ دے کچھ لے کی پالیسی اپناتے ہوئے ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے ہر مسئلہ پر جلد بازی کا مظاہرہ کرنا ریاست کیلئے بے فائدہ ہوسکتا ہے۔ ٹی آر ایس سیاسی طور پر فیصلے کرنے کے معاملے میں آزاد ہے مگر فیصلہ کرنے سے قبل ریاست کے مفادات کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ٹی آر ایس مرکز اور مودی سے تعلقات بڑھانے کیلئے جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اتنی ہی تیزی سے ریاستی بی جے پی ٹی آر ایس کی ہر معاملے میں ٹانگ کھینچ رہی ہے۔ سچ کہا جائے تو ریاست میں بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان ’’ٹام اینڈ جیری‘‘ جاری ہے۔ مسلم تحفظات کو بی جے پی نے مذہبی رنگ دیتے ہوئے ریاست میں اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ چلو اسمبلی احتجاجی پروگرام کا اہتمام کرنے کے علاوہ ریاست کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بی جے پی سے قریب ہونے کی کوشش کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کے درمیان دیوار بننے کی کوشش کی ہے۔ ریاست کے اور بھی کئی مسائل ہیں۔ مرچ کے کسان اپنی تیار کردہ کاشت کو اقل ترین قیمت وصول نہ ہونے پر کئی اضلاع میں سڑکوں پر مرچ کو نذرآتش کردیا ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں پر مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ کسانوں کو اعتماد میں لینے کے بجائے ان پر اپوزیشن جماعتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن جانے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن پر کسانوں کو حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے مگر پریشان حال کسانوں سے ملاقات کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے بلکہ مرچ کی قیمتوں کا تعین مرکز کی ذمہ داری ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہر مسئلہ پر مرکز سے رجوع ہوکر نمائندگیاں کرنے والے تلنگانہ کے وزراء اور ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جب ریاست میں کسان احتجاج کررہے تھے اس وقت چیف منسٹر کے فرزند ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے دہلی میں مختلف مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے ریاستی مسائل پر یادداشتیں پیش کی ہے مگر کسانوں کے مسائل پر مرکزی وزیر زراعت سے کوئی ملاقات نہیں کی۔ ریاست میں اقامتی مدارس کی تعلیم پر بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے مگر ہر سال بڑے پیمانے پر پروفیشنل کورسس کے کالجس بند ہورہے ہیں۔ جاریہ سال 33 انجینئرنگ کالجس بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں جس سے تقریباً 14 ہزار نشستوں کا نقصان ہوگا ساتھ ہی دیگر پروفیشنل کورسیس کے کالجس بھی بند ہورہے ہیں۔ حکومت نے گذشتہ تین سال سے فیس ریمبرسمنٹ کے بقایا جات جاری نہیں کئے ہیں۔ 36000 کروڑ کی عدم اجرائی سے کالجس تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو اسنادات کی ادائیگی سے انکار کررہے ہیں جس سے انجینئرنگ و دیگر کورسیس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کی حصولی میں ناکام ہورہے ہیں۔

آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس امور ڈگ وجئے سنگھ کا تلنگانہ پولیس پر کیا گیا ٹوئیٹ ریاست میں موضوع بحث بن چکا ہے اور سیاسی حلقوں میں بھی گرماگرم بحث شروع ہوچکی ہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ کے پتلے نذرآتش کئے اور شہر و اضلاع کے مختلف پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے ٹوئیٹر پر  تلنگانہ کی پولیس فرضی داعش کا ویب سائیٹ تیار کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو اس کے جال میں پھنسانے کا الزام عائد کیا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اور  ایک حیرت انگیز اور سنگین الزام عائد کیا کہ پولیس انعام و اکرام اور ترقی کے لالچ میں یہ سب کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کررہی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ کے اس ٹوئیٹ کے بعد ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ کو پولیس نے غیرمشروط معذرت خواہی کرنے یا ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ سوائے چیف منسٹر بیشتر وزراء اور ٹی آر ایس کے قائدین نے ڈگ وجئے سنگھ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ان کے خلاف عائد کردہ مقدمات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موقف پر برقرار ہیں اور ان کے پاس ثبوت موجود ہے۔ ان کا دعویٰ ہیکہ مدھیہ پردیش ٹرین حادثہ کے خاطیوں کے بارے میں اور اترپردیش میں ایک دہشت گرد کے گھر میں چھپے ہونے کی مقامی پولیس کو تلنگانہ پولیس نے اطلاع دی ہے۔ تلنگانہ پولیس کو یہ اطلاعات کہاں سے ملی ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات سنگین ضرور ہیں مگر حقائق سے بھی عوام کو واقف ہونا ضروری ہے۔ تلنگانہ پولیس پر انگلی اٹھی ہے۔ عوامی شکوک کو دور کرنے کیلئے تحقیقات ضروری ہیں۔ تحقیقات میں پولیس پر لگایا گیا الزام جھوٹا ثابت ہوسکتا ہے مگر پولیس کی امیج پر جو دھبہ لگا ہے  وہ تحقیقات سے دور ہوسکتا ہے۔ الزام غلط ثابت ہونے پر ڈگ وجئے سنگھ کے  خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے یا محکمہ پولیس میں ایسے چند پولیس ملازمین ہیں تو ان پر سے بھی پردہ اٹھ سکتا ہے۔ حکومت کو محکمہ پولیس پر یقین ہے تو تحقیقات کرنے سے  حرج کیوں ہیں۔ حکمراں ٹی آر ایس قائدین کا الزام ہیکہ اسمبلی و کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا بل منظور کرنے سے کانگریس کے قائدین مایوس ہوچکے ہیں بالخصوص ڈگ وجئے سنگھ بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ پورا کرنے سے تلنگانہ کے مسلمان ٹی آر ایس حکومت سے مطمئن ہیں۔ مسلمانوں کو ووٹ بنک کی طرح استعمال کرنے والی کانگریس کو مسلمانوں کی تائید سے محروم ہوجانے کا خوف ہے۔ اس لئے ڈگ وجئے سنگھ نے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے محکمہ پولیس پر انگلیاں اٹھائی ہیں مگر کانگریس کے قائدین ان الزامات کی تردید کررہے ہیں مگر سچ بات یہی ہیکہ مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے اصل اپوزیشن کانگریس اور حکمراں ٹی آر ایس میں رسہ کشی شروع ہوچکی ہے۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہیکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی کانگریس نے بھرپور تائید کی ہے مگر ٹی آر ایس اس کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اس کا آئندہ ایک سال میں مسلمانوں کو اندازہ ہوجائے گا تب مسلمان کانگریس پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کریں گے جہاں تک اسمبلی و کونسل میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا بل پیش کرنے کے دوران چیف منسٹر نے خطاب کیا ہے اس سے مسلمان بہت زیادہ متاثرہیں۔ اگر کے سی آر وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہیں وہ راج شیکھر ریڈی کو کوسوں چھوڑ دیںگے مگر تحفظات کی آڑ میں بی جے پی اپنے پیر پھیلانے کی تیاری کررہی ہے اور مسلم تحفظات کے مسئلہ کو بی جے پی کیلئے آکسیجن کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہر سیاسی جماعت آئندہ انتخابات کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا تو آنے والے وقت میں ہی پتہ چلے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT