Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / ڈھائی سال بعد بی سی کمیشن کا قیام ، رپورٹ کے لیے مزید دھائی سال درکار

ڈھائی سال بعد بی سی کمیشن کا قیام ، رپورٹ کے لیے مزید دھائی سال درکار

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں …
ڈھائی سال بعد بی سی کمیشن کا قیام ، رپورٹ کے لیے مزید دھائی سال درکار
چیف منسٹر وعدوں سے انحراف کے عادی ، سدھیر کمیشن مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ کے مترادف ، محمد علی شبیرکا بیان

حیدرآباد ۔ 8 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کی ڈھائی سالہ ( نصف میعاد ) کی تکمیل کے بعد بی سی کمیشن تشکیل دینے سے اتفاق کیا گیا اور رپورٹ وصول ہونے تک ماباقی ڈھائی سالہ میعاد بھی ختم ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ اضلاع کی تنظیم جدید سے قبل ایک اور کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کے وعدے سے منحرف ہوجانے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا ۔ گاندھی بھون میں آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے پر اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر 4 ماہ کے وعدے کو پورا نہیں کیا ۔ وقت ضائع کرنے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے سدھیر کمیشن تشکیل دیا گیا ۔ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ کی تیاری میں ڈھائی سال ضائع کردئیے جب کہ چیف منسٹر کو معلوم کہ سدھیر کمیشن مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی ۔ اگر یہ کمیشن کوئی سفارش بھی کرتا ہے تو عدلیہ میں وہ رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے ۔ کانگریس کی مثال سامنے ہے ۔ کانگریس نے وعدے کے مطابق اقتدار حاصل کرتے ہی 56 دن میں مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات فراہم کیا تھا جس کو ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے بی سی کمیشن تشکیل دینے کا کانگریس کو مشورہ دیا تھا ۔ موجودہ تلنگانہ کے ایڈوکیٹ جنرل تب مسلم تحفظات کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے 4 فیصد تحفظات دیئے گئے تھے مثال سامنے رکھنے کے باوجود بی سی کمیشن کے بجائے سدھیر کمیشن تشکیل دیا گیا ۔ جس نے اپنی رپورٹ پیش کرنے میں ڈھائی سال لگا دئیے ۔ باوجود اس کے رپورٹ کو آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ کل کابینہ اجلاس میں بی سی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ بی سی کمیشن سے رپورٹ وصول ہونے تک ٹی آر ایس حکومت کی میعاد مکمل ہوجائے گی ۔ چیف منسٹر مسلمانان تلنگانہ کے جذبات کو ٹھیس پہونچا رہے ہیں ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اضلاع کی تنظیم جدید میں سائنٹفک طریقہ اپنایا نہیں گیا ایک ضلع کی آبادی جہاں 5 لاکھ ہے ۔ وہی دوسرے ضلع کی آبادی 45 لاکھ ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں کانگریس پارٹی نے کئی خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ جس پر چیف منسٹر کے سی آر نے اجلاس میں موجود چیف سکریٹری کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مزید دو کل جماعتی اجلاس طلب کریں اور اضلاع کی تنظیم جدید سے تین دن قبل مسودہ کل جماعتی نمائندوں کے حوالے کریں ۔ نہ ہی کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا اور نہ ہی مسودہ اپوزیشن جماعتوں کو پیش کیا گیا ۔ چیف منسٹر اپنے وعدوں بالخصوص اسمبلی میں کیے جانے والے وعدوں پر قائم نہیں رہتے ۔۔

TOPPOPULARRECENT