Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ڈیرہ سچا سودا سربراہ کے خلاف عصمت ریزی مقدمہ کا آج فیصلہ ڈیرہ سچا سودا سربراہ کے خلاف عصمت ریزی مقدمہ کا آج فیصلہ 

ڈیرہ سچا سودا سربراہ کے خلاف عصمت ریزی مقدمہ کا آج فیصلہ ڈیرہ سچا سودا سربراہ کے خلاف عصمت ریزی مقدمہ کا آج فیصلہ 

٭ سخت ترین سکیوریٹی ‘پنچکولہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل ‘مرکزی فورسیس کی آمد٭ موبائیل انٹرنیٹ‘ ٹرین ، بس معطل ‘ دفاتر کو تعطیل ‘سوشیل میڈیا پر نظر ٭ آشرم میں پٹرول ‘ ڈیزل و ہتھیاروں کے ذخیرہ کی اطلاع ‘ دواخانے الرٹ ٭ ہریانہ میں غیرمعینہ مدت کا کرفیو   ٭ پنجاب میں بھی کرفیو کا چیف منسٹر کا مشورہ نئی دہلی / پنچکولہ 24 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزارت داخلہ نے ریاپڈ ایکشن فورس اور مہیلا فورس کے بشمول مرکزی نیم فوجی دستوں کی 177 کمپنیاں  پنچکولہ روانہ کی ہیں تاکہ ڈیرہ سچا سودا فرقہ کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کے خلاف عصمت ریزی کے فیصلے کے پیش نظر وہاں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا جاسکے عدالت میں کل اس کیس کا فیصلہ سنایا جائیگا اور اس سے قبل یہ اطلاعات ہیں کہ ڈیرہ سچا سودا کے ماننے والوں نے پنچکولہ کے اپنے آشرم میں پٹرول ‘ ڈیزل اور دیگر ہتھیاروں کے علاوہ سنگباری کیلئے پتھروں کا تک بھی ذخیرہ کرلیا ہے اور یہاں لاکھوں افراد پہونچنے لگے ہیں تاکہ کسی مخالفانہ فیصلے کی صورت میں مزاحمت کی جاسکے ۔ گرمیت رام رحیم کے حامیوں کا دعوی ہے کہ ڈیرہ سچا سودا آشرم کے اندر تقریبا سات کروڑ افراد جمع ہوئے ہیں تاہم اس تعداد کی کوئی توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔ یہاں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں اور کل فیصلے کے بعد تشدد کے اندیشے مسترد نہیں کئے جاسکتے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے جملہ 107 کمپنیاں سی آر پی ایف کی روانہ کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر 70 کمپنیاںبی ایس ایف ‘ آئی ٹی بی پی ‘ ایس ایس بی اور دوسری فورسیس کی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے بموجب حکومت جمعہ کی صبح تک پنچکولہ کو مزید مرکزی فورسیس روانہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ سی آر پی ایف اور دیگر فورسیس سے کہا گیا ہے کہ وہ کچھ کمپنیوں کو روانہ کرنے کیلئے تیار رہیں اگر بابا رام رحیم کے حامی تشدد پر اتر آتے ہیں۔ امکان ہے کہ پنچکولہ میں سی بی آئی کی ایک عدالت عصمت ریزی کیس میں جمعہ کو فیصلہ سنائیگی ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بابا رام رحیم کے ہزاروں حامی پنچکولہ پہونچ گئے ہیں۔ وہ ٹرینوں ‘ بسوں اور خانگی گاڑیوں سے یہاں پہونچے ہیں۔ بابا رام رحیم سنگھ کے خلاف تحقیقات کا 2012 میں پنجاب و ہریانہ ہائیکورٹ کی ہدایت کے بعد آغاز ہوا تھا ۔ اس وقت عدالتوں کو نامعلوم مکتوب روانہ کئے گئے تھے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ رام رحیم نے دو خاتون سادھویوں کا جنسی استحصال کیا ہے ۔
مرکزی حکومت نے دونوں ریاستی حکومتوں سے کسی بھی ہنگامی صو رتحال سے نمٹنے میں مکمل مدد فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے اگر یہاں تشدد ہوتا ہے ۔ یہاں پہونچنے کے بعد مرکزی فورسیس نے پنچکولہ ‘ سرسہ ‘ ہسار اور کچھ دوسرے مقامات پر فلیگ مارچ بھی کیا ہے اور احتیاطی اقدام کے طور پر کئی دواخانوں کو بھی چوکس کردیا گیا ہے ۔ انٹلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے سوشیل میڈیا خاص طور پر واٹس اپ گروپس ‘ فیس بک اور ٹوئیٹر پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ افواہیں نہ پھیلائیں۔ اس دوران گرمیت رام رحیم نے کہا کہ وہ کل فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت میں حاضر ہونگے ۔ حکام اور انتظامیہ کو یہ اطلاعات پریشان کر رہی ہیں کہ ڈیرہ سچا سودا کے احاطہ میں پٹرول اور ڈیزل ڈرمس میں بھر کر رکھے جا رہے ہیں۔ یہاں تیز دھاری ہتھیار اور پتھر بھی کچھ عمارتوں کی چھتوں پر جمع کرلئے گئے ہیں اور یہ اندیشے ہیں کہ اگر فیصلہ گرمیت رام رحیم کے خلاف ہوتا ہے تو یہاں بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑیگا ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس پنجاب چندی گڑھ نے تمام زونل آئی جی پیز اور رینج ڈی آئی جیز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار رہیں اور لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ حکومت نے تمام احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے یہاں موبائیل انٹرنیٹ اور ڈاٹا خدمات کو معطل کردیا ہے ۔
ٹرینس منسوخ کردی گئی ہیں۔ سرکاری دفاتر کو چھٹی کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے انتظامیہ پوری طرح الرٹ کردیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت ریاستی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ چیف منسٹر ہریانہ کی اطلاع کے بموجب ہریانہ کے علاقہ فرسا اور دیگر تین دیہاتوں میں غیرمعینہ مدت کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے کیونکہ کل ڈیرہ سچا سودا کا فیصلہ سنایا جانے والا ہے اور نظم و ضبط کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دریں اثناء چیف منسٹر پنجاب امریندر سنگھ نے مشورہ دیا ہیکہ ڈیرہ سچا سودا مقدمہ کے فیصلہ کے پیش نظر ریاست گیر سطح پر پنجاب میں بھی غیرمعینہ مدت کا کرفیو نافذ کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنے پائے۔ دریں اثناء نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ہریانہ اور پنجاب کے چیف منسٹروں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا تیقن دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT