Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / ڈینگوبخار سے نمٹنے مزید ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کی کمیٹی

ڈینگوبخار سے نمٹنے مزید ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کی کمیٹی

تمام سرکاری اور خانگی ہسپتالوں میں ڈینگو کے علاج کیلئے سہولتیں دستیاب ‘ عوام سے دہشت زدہ نہ ہونے کی اپیل

نئی دہلی۔13ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈینگو بخار کے واقعات میں نمایاں اضافہ کے بعد نئی دہلی کے عہدیدار منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ مزید ڈاکٹروں اور ٹیکنیشنس کو ہسپتالوں میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے تعینات کیا جائے گا ۔ ڈسپنسریوں کے ڈاکٹرس اور ٹیکنیشینس اور خانگی ہسپتالوں کا عملہ دہلی کے ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار کیا جائیگا‘ تاکہ ڈینگو کے مریضوں کی زبردست تعاد سے نمٹا جاسکے ۔بعض مریضوں کے ارکان خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹرس مناسب توجہ نہیں دے رہے ہیں یہی بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے ڈینگو کا علاج کرانے لوگوں کا ہجوم ہوگیا ہے ۔جی ڈی پنت ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ڈاکٹروں ‘ نیم طبی عملہ اور ٹیکنیشنس کی تعداد جو دستیاب ہے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کیلئے ناکافی ہے ۔

ایک اور ڈاکٹر نے جس کا تعلق لوک نائیک ہاسپٹل سے ہے کہا کہ صحت کے میڈیکل کالجس جیسے ایمس ‘ آر ایم ایل ‘ لیڈی ہارڈنگس اور صبدرجنگ نے اپنے اساتذہ کو رات کی ڈیوٹی پر تعینات کرنا شروع کردیا ہے تاکہ مریضوں کا مناسب علاج ہوسکے ۔ حکومت دہلی نے مشورے جاری کئے ہیں ۔ پانچ مرکزی ‘ مشرقی ‘ شمالی ‘مغبی اور جنوبی دہلی کی شاخوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارکان عملہ کی تنظیم جدید کر ے ڈینگو کے مریضوںکی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہے ۔ صحت خدمت کی ڈائرکٹوریٹ نے تمام سرکاری اور خاندگیہاسپٹلوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ڈینگو بخار کے مریضوں کو داخلہ دینے سے انکار نہ کیا جائے ۔

مجلس بلدی دہلی کے اعداد و شمار کے بموجب ڈینگو بخار کے 1259مریضوں کا نئی دہلی میں 5ستمبر تک اندراج ہوچکا ہے ۔ ڈینگو سے سرکاری اطلاع کے بموجب دو اموات واقع ہوئی ہیں اور مہلوکین کاتعلق زیادہ تر شمالی دہلی سے ہے ۔ مجلس بلدیہ نے دیگر تین اموات کی اطلاعات کو بھی سرکاری فہرست میں شامل کرلیا ہے ۔ محکمہ صحت کے ارکان کے علاوہ حکومت نے خون کے بینکس کو بھی ہدایت دی ہے کہ کافی مقدار میں خود کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے ۔ خانگی خون کے بنکوںکو بھی یہی ہدایت دی گئی ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ وہ برائے نام شرحوں پر خون فراہم کریں ۔ عوام سے دہشت زدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے بلدی عہدیداروں نے کہا ہے کہ ڈینگو کے واقعات کا انحصار تشخیص کی توثیق پر نہیں ہے ۔ مریضٰوں کو ابتدائی مرحلے میں دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ڈینگو کے تمام مریضوں کو خون کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ناک ‘ مسوڑھوں ‘ منہ ‘ جلد ‘ قئے کے ذریعہ ‘ پیشاب یا حجابت میں خون کے اخراج کی صورت میں ہی ڈینگو بخار کے مریضٰوں کو خون کی ضرورت ہوتی ہے بصورت دیگر انہیں دہشت زدہ نہیں ہونا چاہیئے ۔ دلی کے تما م اسپتالوں بشمول صفدرجنگ ‘ فوجی ‘ فوجی اڈے کے ‘ آر این ایل ‘ لیڈی ہارڈنگ وغیرہ میںڈینگو بخار کے علاوج کی سہولت موجود ہے ۔

TOPPOPULARRECENT