Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / ڈیوڈ ہیڈلی ممبئی حملہ کیس میں معافی یافتہ گواہ

ڈیوڈ ہیڈلی ممبئی حملہ کیس میں معافی یافتہ گواہ

26/11 واقعہ میں امریکی نژاد لشکرطیبہ دہشت گرد کو ممبئی عدالت نے معافی دے دی
ممبئی ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی نژاد امریکی لشکرطیبہ دہشت گرد ڈیوڈ کولمن ہیڈلی کو آج ممبئی کی ایک عدالت نے 26/11 ممبئی دہشت گرد حملہ کیس میں معافی دیتے ہوئے اسے معافی یافتہ گواہ بنادیا ہے۔ عدالت کے اس اقدام سے پاکستان میں رچائی جانے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈیوڈ ہیڈلی 8 فبروری 2016ء کو استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے بیان دے گا۔ ڈیوڈ ہیڈلی اس وقت ممبئی دہشت گرد حملوں کے سلسلہ میں اپنے رول کیلئے امریکہ میں 35 سال کی سزائے قید کاٹ رہا ہے۔ آج سیشن کورٹ نے نامعلوم مقام سے ویڈیو رابطہ کے ذریعہ ڈیوڈ ہیڈلی کا بیان قلمبند کیا۔ اسے معافی دینے پر اس نے معافی یافتہ گواہ بن کر تمام حقائق پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ خصوصی وکیل سرکار اجول نکم نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کو ہیڈلی کی پیشکش قابل قبول ہے، جس کے بعد جج جی اے سانپ نے ڈیوڈ ہیڈلی کو معافی یافتہ گواہ بنایا اور یہ فیصلہ بعض شرائط کے تحت کیا گیا ہے جس کے بعد اسے معافی بھی دی گئی۔ ڈیوڈ ہیڈلی نے آج شام عدالت کے سامنے بتایا کہ اس عدالت میں میرے خلاف داخل کردہ چارج شیٹ وصول ہوئی ہے۔ ان الزامات میں وہی باتیں شامل ہیں جن کے تعلق سے امریکہ میں سزاء کاٹ رہا ہوں۔ ممبئی حملہ کیس میں اپنے رول کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ میں یہ بھی قبول کرتا ہوں کہ اس عدالت میں ایک گواہ کی حیثیت سے خود کو پیش کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ میں ہر ایک سوال کا جواب دینے کیلئے تیار ہوں۔ اگر عدالت سے مجھے معافی ملتی ہے تو میں تعاون کروں گے۔ 18 نومبر کو عدالت نے کہا تھا کہ ڈیوڈ ہیڈلی کو 10 ڈسمبر کے دن ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اس کے سامنے پیش کیا جائے گا کیونکہ ممبئی پولیس نے اسے ایک ملزم بنانے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس نے کہا کہ ممبئی کی عدالت کی جانب سے اصل سازشی سید ذبیح الدین انصاری عرف ابوجندال کے ساتھ اسے بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT