Friday , October 20 2017
Home / اداریہ / ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی

ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی

بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی
ممبئی بم دھماکوں کے مقدمہ نے ایک بار پھر توجہ حاصل کرلی ہے ۔ پاکستانی نژاد امریکی شہری اور لشکرطیبہ کارکن ڈیوڈ ہیڈلی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ان دہشت گردانہ حملوں میں پاکستان اور دوسری دہشت گرد تنظیموںکے رول پر روشنی ڈالی ہے ۔ ڈیوڈ ہیڈلی کو پہلے ہی امریکہ میں اس مقدمہ کے سلسلہ میں 35 سال قید کی سزا مل چکی ہے اور وہ وہاں جیل میں ہے ۔ امریکہ سے بذریعہ ویڈیو لنک اس نے ہندوستان میں خصوصی عدالت میںپیش ہوتے ہوئے یہ بیان دیا ہے ۔ اس کاکہنا ہے کہ ان دھماکوں میں جہاں لشکرطیبہ نے اہم رول نبھایا ہے وہیں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رول سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ آئی ایس آئی کے تین عہدیداروں کے نام تک ڈیوڈ ہیڈلی نے ظاہر کئے ہیں جنہو ںنے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے سلسلہ میں اہم رول ادا کیا تھا اور ان حملوں کے منصوبوں کی تیاری اور ان منصوبوں پر عمل آوری کیلئے کڑی اور رابطہ کا کام کیا تھا ۔ ڈیوڈ ہیڈلی خود لشکرطیبہ کا کارکن رہ چکا ہے ۔ اس نے یہ اعتراف کیا کہ وہ حافظ سعید کی تقاریر سے متاثر ہوکر لشکر طیبہ میں شامل ہوا تھا اور اس کی لشکر کے اعلی قائدین کے ساتھ آئی ایس آئی کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اسے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں لشکر کے ایک کیمپ میں ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس بیا ن سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لشکر کی جانب سے باضابطہ ٹریننگ کیمپس چلائے جا رہے ہیں۔ جس وقت سے ممبئی میں دہشت گردانہ حملے ہوئے اور تقریبا 186 افراد ہلاک ہوئے اس وقت سے ہندوستان مسلسل کہتا آرہا ہے کہ یہ پاکستانی سرزمین سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی کارستانی ہے اور اس میں آئی ایس آئی کا رول بھی  نظر آتا ہے ۔ پاکستان ان حملوں کے بعد سے مسلسل ان الزامات کی تردید کر رہا ہے اور اس نے ہندوستان کی جانب سے فراہم کردہ شواہد اور ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا ہے ۔ پاکستان کے اسی موقف کی وجہ سے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث دہشت گرد پاکستانی عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اب جبکہ ان دہشت گردوں کے تعلق سے خود ان کے ساتھی نے عدالت میں بیان دیا ہے تو اس میں کوئی شکوک باقی نہیں رہ جانے چاہئیں۔
یہ حقیقت ہے کہ لشکرطیبہ ‘ جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی تنظیمیں مسلسل مخالف ہند سرگرمیوں میں ملوث ہیں اورا س کیلئے پاکستانی سرزمین کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان ‘ بارہا یہ تیقن دے چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین مخالف ہند سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا اس کے باوجود یہ سلسلہ چل رہا ہے اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان دہشت گرد تنظیموں اور ان کی کارروائیوں کو کنٹرول کرنا حکومت پاکستان کے بس میں بھی ہے ۔ وہ بھی ان کے آگے بے بس ہوگئی ہے ؟ ۔ اگر ایسا ہے تو اسے خود اپنے ملک پر حکمرانی کا حق کیونکر حاصل ہوسکتا ہے ؟۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے ساری دنیا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ یہ چند مٹھی بھر عناصر ہیں جو اپنے آقاوں کے اشارے پر ساری دنیا میں اتھل پتھل مچانے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس نہ انسانی زندگیوں کی کوئی اہمیت ہے اور نہ انسانیت ہی کے کوئی معنی رہ گئے ہیں۔ یہ محض کشت و خون اور غارت گری میں مصروف ہیں اور یہ راستہ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی دنیا کے کسی مذہب میں یا کسی سماج میں یا کسی تہذیب میں اجازت دی گئی ہے ۔ ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی جس میں بے قصور افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ساری دنیا میں ان کی مذمت کی گئی اور اس کے خلاف کارروائی پر زور دیا جاتا رہا ہے لیکن پاکستان کسی نہ کسی بہانے سے ان دہشت گرد وں اور ان کی تنظیموں کے خلاف کارروائی کو ٹالتا رہا ہے اور اس کی ٹال مٹول کا سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن اب اسے ختم ہونا چاہئے ۔
پاکستان اب پھر سے اپنی پرانی روش پر چلتے ہوئے ڈیوڈ ہیڈلی کی گواہی کو بھی قبول کرنے تیار نہیں ہے اور وہ اسے مسترد کرر ہا ہے ۔ پاکستان کو ہوسکتا ہے کہ اس گواہی کے تعلق سے کچھ شکوک ہوں لیکن وہ انہیں دور کرسکتا ہے ۔ خود ہیڈلی سے پاکستان بھی بذریعہ ویڈیو لنک جرح کرسکتا ہے ۔ جو سوالات اس کے ذہن میں ہیں انہیں دور کیا جاسکتا ہے ۔ ہیڈلی کی گواہی کو جانچا اور پرکھا جاسکتا ہے لیکن ایسا کچھ بھی کئے بغیر اسے مسترد کردینا اور قبول نہ کرنے کے اشارے دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی عمل ہے ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان در اصل ممبئی حملوں کے مرتکبین کے خلاف کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ اس سے وہ ساری دنیا میں یکا و تنہا ہوسکتا ہے ۔ اسے انصاف کے تقاضوں کی تکمیل میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے ممبئی حملوں کے مرتکبین کو قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT