Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈی سرینواس احسان فراموش، سیاسی زندگی کانگریس کی دین

ڈی سرینواس احسان فراموش، سیاسی زندگی کانگریس کی دین

کانگریس سے سب کچھ حاصل کیا اور پارٹی کو کچھ نہیں دیا، وی ہنمنت راؤ
حیدرآباد ۔ 29 اگست (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا مسٹر وی ہنمنت راؤ نے ڈی سرینواس کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ وہ لوٹ کھسوٹ کرنے کیلئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں۔ راج شیکھر ریڈی کی حیات میں زبان نہ کھولنے کی وجہ طلب کی آج اسمبلی کے احاطہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ ڈی سرینواس کی آج جو بھی سیاسی زندگی ہے وہ کانگریس اور گاندھی خاندان کی دین ہے۔ تنظیمی سطح پر کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی سے پردیش کانگریس کی صدارت تک تمام عہدوں پر ڈی سرینواس نے خدمات انجام دی ہیں، انہیں دو مرتبہ پردیش کانگریس کی صدارت سونپی گئی ہے اور کانگریس کے دورحکومت میں وہ کئی وزارتوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کانگریس سے مستعفی ہونے سے دو ماہ قبل تک وہ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن تھے۔ صرف ایک مرتبہ خاتون کو نمائندگی دینے کیلئے کونسل میں ان کی نمائندگی کو توسیع نہ کرنے پر وہ کانگریس سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ہیں۔ عوام بالخصوص ان کے آبائی مقام نظام آباد میں ان کی کیا اہمیت ہے عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے انہیں 8 مرتبہ ٹکٹ دیا ہے۔ وہ صرف 3 مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں۔ سب کچھ کانگریس سے حاصل کرکے کانگریس نے انہیں کیا دیا ہے کا ریمارک کرنا مضحکہ خیز ہے۔ وہ بالراست ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کا حوالہ دیتے ہوئے اراضیات، جائیداد وغیرہ کچھ نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جب تک راج شیکھر ریڈی زندہ تھے اس طرح کا سوال کرنے کی ڈی سرینواس نے کبھی جرأت نہیں کی۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے ڈی سرینواس سے استفسار کیا کہ کیا وہ جائیداد بنانے اور اراضیات خریدنے کے علاوہ لوٹ کھسوٹ کرنے کیلئے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں اس کی وضاحت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈی سرینواس جب پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر تھے، تب انہوں نے کئی بی فارمس کو فروخت کیا ہے اور ساتھ ہی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ڈی سرینواس سے چوکنار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT