Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ڈی ناگیندر گریٹر حیدرآباد کانگریس کی صدارت سے مستعفی

ڈی ناگیندر گریٹر حیدرآباد کانگریس کی صدارت سے مستعفی

گروپ بندیوں سے پارٹی کو نقصان ہونے کا ادعا
حیدرآباد ۔ 6 فبروری (سیاست نیوز) مسٹر ڈی ناگیندر نے جی ایچ ایم سی انتخابات میں کانگریس کی شکست پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گریٹر حیدرآباد کی مکمل ذمہ داری نہیں سونپی گئی باوجود اس کے وہ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کی صدارت سے مستعفی ہورہے ہیں۔ اختلافات اور گروپ بندیوں نے پارٹی کا بیڑہ غرق کردیا۔ آج اپنی قیامگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ڈی ناگیندر نے کہا گریٹر حیدرآباد کے عوام نے ٹی آر ایس کے وعدوں اور ان کے منشور پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی بھی ذمہ داری ہیکہ وہ عوام سے کئے گئے وعدے ڈبل بیڈ روم فلیٹس، 1000 بستروں پر مشتمل کارپوریٹ طرز کے 6 ہاسپٹلس، 24 گھنٹے بلاوقفہ برقی سربراہی، اسکائی وے فلائی اوورس وغیرہ جیسے اہم وعدوں کو جلد از جلد پورا کرے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے تعمیر کی پالیسی اپناتے ہوئے عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے حکومت پر دباؤ بنائے۔ مسائل کی عدم یکسوئی پر عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کا راستہ اپنائے۔ مسٹر ڈی ناگیندر نے جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے عوامی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جی ایچ ایم سی کے 150 ڈیویژنس پر مقابلہ کیا اور پارٹی کی جانب سے منشور بھی جاری کیا گیا مگر عوام نے کانگریس پارٹی اور اس کے منشور پر بھروسہ نہیں کیا۔ کانگریس صرف 2 ڈیویژنس تک محدود ہوگئی اس کی کئی وجوہات ہیں، جس میں گروپ بندیاں اور پارٹی قائدین کے اختلافات بھی شامل ہیں۔ وہ گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی کے صدر ہیں۔ تاہم انہیں مکمل ذمہ داری نہیں دی گئی۔ باوجود اس کے انہوں نے پارٹی امیدواروں کی کامیابی کیلئے بہت محنت کی پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وہ گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہورہے ہیں۔ مستقبل میں پارٹی کے ورکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے آپ کو ہمیشہ پارٹی کیلئے دستیاب رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں جیت ہار لگی رہتی ہے۔ 1983 میں آنجہانی این ٹی آر کی جانب سے تلگودیشم پارٹی کی تشکیل کے بعد کانگریس کو بہت بری شکست ہوگئی تھی تب چند قائدین ہی متحدہ طور پر کام کرتے ہوئے دوبارہ کانگریس کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اسی جذبہ کے ساتھ کانگریس قائدین کو دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس قائدین میں ٹیم ورک کا فقدان دیکھا گیا۔ رائے دہی کے دن عوامی رجحان دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ کانگریس کو شکست ہوگی، وہ پارٹی امیدواروں کو اس کی اطلاع دے چکے تھے۔

TOPPOPULARRECENT