Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / ڈی ڈی سی اے اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

ڈی ڈی سی اے اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

کانگریس قائدین بھی ملوث ہونے کا الزام، میری لڑائی جیٹلی کے خلاف نہیں : کیرتی آزاد

نئی دہلی ۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے معطل رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے آج پارٹی کا یہ استدلال مسترد کردیا کہ ایس ایف آئی او تحقیقات میں دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) امور میں کسی طرح کے اسکام کا پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے مرکزی ایجنسیوں جیسے سی بی آئی اور ای ڈی کے ذریعہ جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو بھی اس تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی اور الزام عائد کیا کہ پیشرو یو پی اے حکومت نے کوئی کارروائی اس لئے نہیں کی کیونکہ اس کے نامزد ارکان جیسے راجیو شکلا، نوین جندل اور اروند سنگھ لولی ڈی ڈی سی اے ڈائرکٹرس کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی یہ غلطی تھی اور اس نے اپنی ذمہ داری سے لاپرواہی برتی۔ کیرتی آزاد نے کہا کہ مقررہ ضابطہ کی تکمیل کے بغیر کروڑہا روپئے کی رقم فرضی پتے کے حامل بینک اکاونٹس میں منتقل کی گئی۔ یہ ایک تاریخی دھوکہ دہی تھی جہاں ایک ہی طرح کے لوگوں کو ایک ہی کام کرنے پر بار بار رقم ادا کی جارہی تھی۔ کیرتی آزاد نے ان کے پاس شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی لڑائی اسپورٹس اداروں میں کرپشن کے خلاف ہے جیٹلی کے خلاف نہیں۔ انہوں نے وزیرفینانس ارون جیٹلی کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا جس پر انہیں مخالف پارٹی سرگرمیوںکا الزام ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ بی جے پی یا جیٹلی کے خلاف نہیں ہیں۔ کیرتی آزاد نے کہا یہ بات سمجھنے سے وہ قاصر ہیں کہ وزیرفینانس کو انہوں نے کس طرح نشانہ بنایا۔ انہوں نے پارٹی کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ وہ ہمیشہ پارٹی کے وفادار سپاہی رہے ہیں لیکن وہ کرپشن کے خلاف مسلسل لڑائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی اے امور کی سی بی آئی اور تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے ای ڈی اور ڈی آر آئی سے جامع تحقیقات کرائی جانی چاہئے۔ کیرتی آزاد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کئی فرمس کے نام بتائے اور ان پر کروڑہا روپئے کی رقم کے الٹ پھیر کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان فرمس کے ڈی ڈی سی اے عہدیداروں سے روابط ہیں۔ انہوں نے پارٹی کا یہ استدلال مسترد کردیا کہ سیریئس فراڈ انوسٹی گیشن آفس (ایس ایف آئی او) کو ڈی ڈی سی اے امور میں کوئی اسکام کا پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایف آئی او صرف ان ہی کاغذات کی جانچ کرتا ہے جو اسے دی جاتی ہے۔ ایس ایف آئی او کمیٹی کی نظر سے صرف وہی کاغذات گذرتے ہیں جو اسے جانچ کیلئے دیئے جاتے ہیں۔ وہ اس بات کی تحقیقات نہیں کرتا کہ جن کمپنیوں کو کروڑہا روپئے کی رقم ادا کی گئی کیا فی الواقعی ان کا وجود بھی ہے۔ کیرتی آزاد نے کہا کہ ڈی ڈی سی اے کو ایس ایف آئی او نے بعض معاملات میں ماخوذ کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق حساب کتاب کے فقدان سے ہے۔ ارون جیٹلی اور ڈی ڈی سی اے نے سابق انٹرنیشنل کرکٹر کیرتی آزاد کے الزامات کی تردید کی ہے۔ کیرتی آزاد نے یہ جاننا چاہا کہ کیا کرپشن کو مخفی رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ سی بی آئی نے ڈی ڈی سی اے پر دھاوے کرنے کی بجائے صرف نوٹسیں روانہ کی ہیں اور ملزمین کو ثبوت مٹانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کیرتی آزاد نے کہا کہ انہوں نے 90 فیصد تحقیقات کرلی ہے اور سی بی آئی کو ان سے شواہد اکھٹا کرنا چاہئے۔ انہیں پتہ نہیں کہ سی بی آئی اس قدر سست رفتاری کا مظاہرہ کیوں کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور دیگر نے ارون جیٹلی کو جس وقت وہ کرکٹ باڈی کے سربراہ تھے، مالی بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں 200 سے زائد مکتوب لکھے لیکن کچھ نہیں ہوا۔

TOPPOPULARRECENT