Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / کابل خودکش دھماکہ سے دہل گیا، 90 ہلاک، سینکڑوں زخمی

کابل خودکش دھماکہ سے دہل گیا، 90 ہلاک، سینکڑوں زخمی

محفوظ ترین سفارتی علاقہ بدترین حملہ کا نشانہ، ہر طرف تباہی و غارت گری، سڑکوں پر نعشیں، خون کے دھبے، عمارتیں شعلہ پوش، آسمان پر سیاہ دھویں کے بادل

کابل ۔ 31 مئی (سیاست ڈاٹ کام) افغان دارالحکومت کے سفارتی علاقہ میں آج ایک انتہائی مہلک ترین ٹرک بم دھماکہ میں کم سے کم 90 افراد ہلاک اور دیگر سینکڑوں زخمی ہوگئے جس کے ساتھ ہی کابل کی سڑکوں پر بدترین تباہی و غارت گری کے مناظر دیکھے گئے جہاں سڑکوں پر ہر طرف انسانی جسموں کے ٹکڑے اور خون کے دھبے پائے گئے اور عمارتوں کی چکناچور کھڑکیوں کی کانچ کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔ سڑکوں پر جگہ جگہ انسانی نعشیں المناک منظر پیش کررہی تھیں اور جھلستی عمارتوں سے اٹھنے والے دھویں کے سیاہ بادل فضاء کو مزیدالمناک اور مغموم بنارہے تھے۔ اس علاقہ میں متعد بیرونی سفارتخانے اور سفارتی عملہ کے ارکان کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ بیان کیا جاتا ہیکہ ہندوستانی سفارتخانہ سے بمشکل 100 میٹر کے فاصلہ پر یہ تباہ کن دھماکہ ہوا، جس سے دور دور تک بربادی و غارت گری پھیل گئی۔ تاہم ہندوستانی سفارتخانہ محفوظ رہا۔ صبح کے مصروف ترین اوقات کے دوران ہوئے اس بدترین دہشت گرد حملے کے بعد کابل کی سڑکوں پر افراتفری پھیل گئی۔ عینی شاہدین نے کہا کہ دھماکہ میں درجنوں کاروں کے برخچے اڑ گئے۔ عمارتوں اور دکانات کو شدید نقصان پہنچااور زخمی حالت میں زندہ بچ جانے والے مرد خواتین اور بچوں کے علاوہ اسکولی طالبات خوف، دہشت اور سراسیمگی کی حالت میں اپنی جان بچانے ادھر ادھر دوڑتی نظر آئیں۔ اس اثناء میں کئی فکرمند مرد اور خواتین اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور بچوں کی تلاش کیلئے سڑکوں پر نکل آئے اور سیکوریٹی تلاشی مراکز سے گذرنے کیلئے جدوجہد کرتے دیکھے گئے۔ اس حملے کے اصل نشانہ کا فوری طور پر علم نہیں ہوسکا ہے لیکن اس حملہ نے افغانستان میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کو پھر ایک مرتبہ اجاگر کردیا ہے جہاں کی سپاہیوں کو مختلف واقعات میں جسمانی گزند و ہلاکتوں کا سامنا ہے اور فوج کو اپنے سپاہیوں کے فراراور انحراف جیسے مسائل سے گذرنا پڑ رہا ہے۔ ان مسائل کے باوجود افغان فوج بدستور اپنی مہم میں مصروف ہے اور تخریب کاروں کو پسپا کرنے کی جدوجہد کررہی ہے جبکہ اس ملک کا ایک تہائی حصہ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔ سفارتی علاقہ میںدھماکے کے کئی گھنٹوں بعد بھی ایمبولینس گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا جہاں راحت و امدادی ٹیم کے کارکن منہدمہ عمارتوں کے ملبہ سے نعشوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کو نکال رہے ہیں۔ وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے شہیدوں (مہلوکین) کی تعداد 90 تک پہنچ گئی ہے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ملبوں سے مزید نعشیں برآمد ہورہی ہیں جس کے ساتھ مہلوکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘‘۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ 90 سے زائد افراد ہلاک اور 360 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ انتہائی سخت سیکوریٹی والے سفارتی زون میں زان باق چوک میں صبح 8:3) بجے ہوا جب ایک خودکش بمبار نے طاقتور دھماکو مواد سے لدی ٹرک کو اڑا دیا۔ 50 سے زائد گاڑیاں تباہ ہوگئی، انہیں نقصان پہنچا ہے۔ فرانس اور جرمن کے سفارتخانوں کو بھی اس دھماکے سے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ہندوستانی سفارتخانہ بالکلیہ طور پر محفوظ رہا، جس سے صرف 100 میٹر کے فاصلہ پر یہ دھماکہ ہوا۔ کسی نے بھی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب مضبوطی کے دوبارہ ابھرنے والے طالبان نے سالانہ موسم سرما کے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ (داعش) بھی افغان دارالحکومت میں حالیہ عرصہ کے دوران ہوئے متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT