Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کابل میں طالبان کا خودکش حملہ ‘ ناٹو قافلہ نشانہ

کابل میں طالبان کا خودکش حملہ ‘ ناٹو قافلہ نشانہ

KABUL, OCT 11:- Afghan security personnel keep watch at the site of a suicide car bomb blast in Kabul, Afghanistan October 11, 2015.REUTERS/UNI PHOTO-11R

ہلاکتوں کی تعداد ہنوز نامعلوم ‘ شورش پسندوں کے حملوں میں شدت
کابل ۔11اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان کے خودکش بم بردار نے کابل کے مضافات میں ناٹو کے قافلہ کو نشانہ بناکر خودکش حملہ کیا جس کی وجہ سے مصروف اوقات میں زبردست بم دھماکہ ہوا ۔ چند دن قبل ہی شورش پسند عسکری گروپ نے ایک کلیدی شمالی شہر پر قبضہ کرلیا تھا ۔ کسی جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں ملی ۔ بم حملہ سے فضاء میں گہرا کشیف دھویں کا بادل اٹھتا ہوا دکھائی دیا ۔ طالبان نے حکومت اور غیر ملکی نشانوں پر حملوں میں شدت پیدا کردی ہے ۔ فوجیوں نے اس علاقہ کا محاصرہ کرلیا اور ایمبولنس گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے تیزی سے مقام واردات پر پہنچی‘ جہاں پر گاڑیوں کا ملبہ اور کچرے کا ڈھیر لگا ہوا تھا ۔

بم دھماکہ اُس وقت پیش آیا جب کہ شہر کابل کے مضافاتی علاقہ جوئے شیر میں خودکش بم بردار نے غیر ملکی افواج کے قافلہ کو نشانہ بناکر حملہ کیا ۔ کابل پولیس کے ترجمان عباد اللہ کریمی نے اس کی اطلاع دی ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ تاحال ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ کابل میں ناٹو کے ترجمان نے توثیق کی کہ اُس کے قافلہ پر حملہ کیا گیا ہے لیکن کہاکہ بین الاقوامی اتحاد  ہنوز معلومات فراہم کررہا ہے ۔ طالبان اس بم دھماکہ کے پس پردہ تھے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ذرائع ابلاغ کو اس کی اطلاع دی ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فوجیوں کا ایک قافلہ ہمارے مجاہدین کے خودکش حملہ کا کابل کے مضافات میں جوئے شیر کے پاس شکار ہوگیا ۔دو گاڑیوں تباہ ہوگئیں اور ان گاڑیوں میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے ۔ طالبان کو 2001ء میں امریکہ زیر قیادت حملہ میں اقتدار سے بیدخل کردیا گیا تھا ۔ وہ اپنے جنگی کامیابیوں کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ شورش پسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور انہوں نے افغانستان کے اطراف اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے ۔ موسم گرما میں اوآخر اپریل سے جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عسکریت پسندوں نے شمالی شہر قندوس پر ستمبر کے اواخر میں حملہ کیا تھا اور گذشتہ 14سال میں پہلی بارشاندار فتح حاصل کی تھی ۔ صوبائی دارالحکومت پر تین دن کیلئے ان کا قبضہ ہوگیا تھا ۔

اس سے مغرب کے تربیت یافتہ افغان فوجیوں کو سخت دھکہ پہنچا جو بڑے پیمانے پر اپنے طریقہ سے ناٹو کے لڑاکا مشن کے ڈسمبر میںخاتمہ کے بعد شورش پسندوںکا مقابلہ کررہے ہیں ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس میں شہر قندوس کا قبضہ بحال کردیا ہے لیکن بعض علاقوں میں شورس پسندوں اور افغان فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے ۔ افغان فوج کو ناٹو کی خصوصی افواج کی مدد حاصل ہے اور وہ ان کی منظوری حاصل کرتے ہی کارروائیاں کرتے ہیں ۔تشدد پڑوسی علاقہ بدخ شاں ‘ تخر اور بغلان صوبوں تک پھیل گیا ہے ۔ اندیشے بڑھتے جارہے ہیں کہ قندوس پر قبضہ صرف کھیل کا آغاز تھا ۔ زیادہ جرات مند حکمت عملی شورش پسندوں نے اختیار کرلی ہے اور پورے شمالی افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے جارہے ہیں ۔ ناٹو کے بیشتر لڑاکا فوجی گذشتہ سال افغانستان سے واپس ہوچکے ہیں ۔ لیکن ایک چھوٹا سا کنٹنجنٹ جس کی توجہ تربیت اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں پر مرکوز ہے ۔ صرف 10ہزار  امریکی فوجیوں پر متشمل ہے ۔ ناٹو افواج خود بھی 3اکٹوبر کو امریکہ کے فضائی حملہ کا شکار ہوچکی ہے جب کہ قندوس کے ایک ہاسپٹل پر امریکی فضائیہ نے حملے کئے تھے جس سے 12ارکان عملہ اور 10مریض ہلاک ہوگئے تھے ۔ طبی خیراتی ادارہ اپنا صدمہ مرکز بن کر چکا ہے اور تازہ واقعہ کو ایک جنگی جرم قرار دے چکا ہے ۔ واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرچکا ہے ‘ جس کی وجہ سے واقعہ کی تیزرفتار تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT