Tuesday , May 23 2017
Home / دنیا / کابل میں پانی کی شدید قلت

کابل میں پانی کی شدید قلت

کابل ، 2مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغان دارالحکومت میں بڑھتی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح گرتی جارہی ہے مگر جو لوگ پیسہ خرچ کر سکتے ہیں وہ بے حد گہرائی میں کنویں کھود کر پانی نکال رہے ہیں۔ افغانستان کی بنجر زمین میں یو ں تو پانی کا ملنا ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے مگر پانی کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے زیر زمین پانی کی سطح گرتی جارہی ہے نیز خشک سالی سے یہاں کے باشندے خصوصاً غریب لوگوں کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔جدید کابل میں 10 لاکھ افراد کے لئے وسائل مہیا کرائے گئے ہیں مگر اب یہاں 46 لاکھ سے زیادہ لوگ رہائش پذیر ہیں۔ امریکی حکومت کے اندازے کے مطابق لوگ تشدد سے بچنے اور ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے شہروں کا رخ کررہے ہیں۔جو لوگ خوشحال ہیں جو عموماً شہر کے محدود پانی سپلائی کے نظام پر انحصار کرنے کے بجائے کنواں کھدوالیتے ہیں مگر پانی کی سطح نیچے اترنے کی وجہ سے ہر مرتبہ زیادہ گہرائی میں کھدائی کرنی ہوتی ہے ۔شہر کے مختلف حصوں میں کنویں کی گہرائی الگ الگ ہوتی ہے ۔ بعض باشندوں کو اب پہلے کے مقابلے 10 سے 20 میٹر زیادہ گہرائی میں کھودنا پڑتا ہے ۔ بعض جگہ صاف پانی کے لئے 150 میٹر تک نیچے جانا پڑتا ہے جس پر تقریباً 5200 ڈالر سے بھی زیادہ لاگت آتی ہے اتنی بڑی رقم خرچ کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے ۔افسران نے کہا کی کنواں کھودنے کا کام اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس پر کنٹرول کرنا مشکل ہے ۔ کیونکہ زیرزمین پانی کے بے تحاشہ استعمال کو روکنے کا کوئی ضابطہ نہیں ہے ۔ ضرورت سے زیادہ پانی نکالنے سے پانی کم ہوتا جارہا ہے ۔ سرکاری شہری پانی کی سپلائی اور اخراج کارپوریشن کے ڈائرکٹر جنرل حمید اللہ یلانی نے کہا  کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT