Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / کابل میں پرامن احتجاجی مظاہرین پر طاقتور بم حملہ، 80 ہلاک

کابل میں پرامن احتجاجی مظاہرین پر طاقتور بم حملہ، 80 ہلاک

KABUL, JULY 23 -- Wounded man sits next to other victims of a blast during a demonstration in Kabul, Afghanistan July 23, 2016. REUTERS-15R

۔231 سے زائد زخمی، مہلوکین میں سکیورٹی فورس کے ارکان بھی شامل، آئی ایس نے ذمہ داری قبول کرلی
کابل 23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اقلیتی شیعہ ہزارہ پر موجود ہجوم کو نشانہ بناتے ہوئے دو طاقتور بم دھماکے کئے گئے جس میں 80 افراد ہلاک اور تقریباً 231 زخمی ہوگئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ برقی لائن کے سلسلہ میں بطور احتجاج عوام کی کثیر تعداد یہاں جمع ہوئی تھی۔ آئی ایس آئی ایس نے اِس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان محمد اسماعیل کھوسی نے بتایا کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ عام طور پر اِس نوعیت کے حملے طالبان کی جانب سے کئے جاتے ہیں لیکن آئی ایس سے مربوط ایک ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اُس نے کی ہے۔ یہ دھماکے اِس قدر شدت کے تھے کہ نعشوں کے پرخچے اُڑ گئے اور جسمانی اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔ طبی امداد کے لئے ایمبولنس کے پہونچنے میں بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ حکام نے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں اور بڑے کنٹینرس یہاں رکھ دیئے گئے تھے۔ محمد اسماعیل کھوسی نے کہاکہ 80 افراد ہلاک ہوئے اور 231 زخمی ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ہزاروں احتجاجی مظاہرین یہاں جمع ہوکر کئی ملین ڈالر کی برقی لائن کو صوبہ بامیان سے گزارنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ صوبہ انتہائی پسماندہ ہے اور ہزارہ آبادی کی یہاں اکثریت پائی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہاکہ کابل میں پرامن احتجاج کرنے والوں کو جس بے دردی سے نشانہ بنایا گیا اُس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح افراد کے پاس انسانی زندگی کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ یہ حملے اِس بات کی یاد دہانی ہے کہ افغانستان میں لڑائی کم نہیں ہوئی ہے۔ جیسا کہ عام طور پر تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اِس کے برعکس حقیقی صورتحال یہ ہے کہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال ہم سب کے لئے انتہائی تشویشناک ہے۔ صدر افغانستان اشرف غنی نے ایک بیان میں بم دھماکوں میں ہلاکتوں پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ مہلوکین میں سکیورٹی عہدیدار بھی شامل ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن موقع پرست دہشت گردوں نے ہجوم میں گھس کر یہ کارروائی انجام دی جس میں کئی شہری بشمول سکیورٹی فورسیس کے ارکان ہلاک  اور زخمی ہوئے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ دھماکوں سے پہلے تک پرامن تھا اور مظاہرین پرچم تھامے ’’امتیازی سلوک ختم کرو‘‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے صدارتی محل کی سمت بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔ 500 کیلو واٹ کی یہ برقی لائن مشرقی ایشیائی ممالک ترکمانستان، ازبیکستان اور تاجکستان سے ہوتی ہوئی برقی بحران سے دوچار افغانستان اور پاکستان سے گزرے گی۔ یہ برقی لائن منصوبہ کے مطابق وسطی صوبہ سے گزرنے والی تھی لیکن حکومت نے اِس میں تبدیلی کی اور پہاڑی علاقوں سے شمالی کابل تک پہنچایا جارہا تھا۔ حکام کا یہ موقف تھا کہ اِس تبدیلی سے جہاں فاصلہ کم ہوگا وہیں پراجکٹ بھی جلد تکمیل پائے گا اور کم ملین ڈالرس کی بچت بھی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT