Tuesday , September 19 2017
Home / Top Stories / کار میں 20سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد دہلی میں غصہ کی لہر

کار میں 20سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد دہلی میں غصہ کی لہر

نئی دہلی:دہلی میں پیش ائے اندہوناک عصمت ریزی واقعہ کی چار سال گذرنے ایک دن قبل ایک کار میں 20سالہ عورت کی عصمت ریزی کاواقعہ ایک بار پھر دہلی کی عوام کے غم وغصہ کا سبب بنا۔جمعہ کے روز سٹی پولیس نے کہاکہ 20سالہ عورت کی راجدھانی دہلی میں لفٹ دینے کے بہانے سے ایک کیاب ڈرائیور نے عصمت ریزی کی ۔

ڈرائیور کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔اس واقعہ کے بعد سال2012میں پیش ائے بے رحمانہ اجتماعی عصمت ریزی کے واقعہ کی یاد تازہ ہوگئی جس میں ایک 23سالہ لڑکی کی چلتی بس میں چھ لوگ نے عصمت دری کی تھی جوتیرہ دن بعد سنگاپور میں علاج کے دوران فوت ہوگئی ۔20سالہ لڑکی پر اس حملے کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں بھی گہما گہمی شروع ہوگئی۔

دہلی چیف منسٹر ارویندر کجریوال نے اسکے لئے وزیرآعظم کے دفتر اور یل ٹی نجیب جنگ کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے ان پر عورتوں کے تحفظ کو لیکر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔کجریوال نے ٹوئٹ کرکے کہاکہ ’’ ایل جی اور پی ایم او دہلی میں عورت کی حفاطت کو لیکر سیاست کررہے ہیں۔ ایل جی نے ڈی سی ڈبلیو( دہلی کمیشن فار ویمن) میں کام کرنے والوں کی تمام تنخواہیں روک دی ۔

اور ان کے تحت پولیس بدعنوان اور غیر کارگرد ہوگئی ہے‘‘۔ عاپ کے قومی کنونیر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نوائیڈا کی رہنے والی ایک خاتون چہارشنبہ کے روز دہلی میں ملازمت کی تلاش کے لئے پہنچی اور ایک 30سالہ ٹیکسی ڈرائیور امان جو ٹیکسی کرایہ پر لیکر چلاتا ہے نے لفٹ دینے کے بہانے سے کار میں اسی کی عصمت ریزی کی۔کار کے ائینے پر وزارت امور داخلہ کا اسٹیکر بھی چسپاں ہے۔ تیس سالہ عصمت ریز ی کا مرتکب موتی باغ سلم جنوبی دہلی کاساکن ہے ۔

جس کو جمعرات کی دوپہر میں ہی پولیس نے اسکے گھر سے حراست میں لے لیاتھااور کار بھی ضبط کرلی گئی۔کانگریس نے مرکزی او رریاستی حکومت کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے اپنی ذمہ داری سے بھاگنے او رریاست میں خواتین کی حفاظت کویقینی بنانے سے روگردانی کرنے کا الزام عائد کیا۔دہلی کانگریس کے سربراہ اجئے ماکن نے ائی اے این ایس سے کہاکہ’’نربھایہ واقعہ کے چوتھے سال کے موقع پر یہ ایک معمولی حادثہ ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ شہر کی حالت خراب سے بد تر ہوتی جارہی ہے‘‘۔

اور اس کی وجہہ ریاستی اور مرکزی حکومت موثر اقدامات کے بجائے ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قراردے رہے ہیں۔عاپ کی برسراقتدار دہلی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے ماکن نے کہاکہ ’’ دہلی حکومت نے سابق حکومت میں نربھایہ واقعہ کے بعد خواتین کی مدد کے لئے شروع کئے گئے پروگرام جیسے ’ آواز اٹھاؤ‘ہلپ لائن فار ویمنس اور جنڈر ریسورس سنٹر کو بند کردیا ہے

۔انہوں نے کجریوال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن بسوں میں مارشل فراہم کرنے کے وعدے کو اب تک پورا نہیں کیا۔سوارج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اوردیگر سیاسی پارٹیوں کو مورد الزام ٹھرات ہوئے کہاکہ ان کے پاس شہر میں خواتین کی حفاظت کے لئے مضبوط حوصلہ نہیں ہے

۔انہوں نے ائی اے این ایس سے بات چیت میںیہ با ت کہی۔یادو نے کہاکہ ’’ ایک بڑے احتجاج کے بعد جسٹس ورما نے اپنی رپورٹ میں فاسٹ ٹریک کورٹ او رنربھایہ فنڈ کو ضروری قراردیاتھا۔

TOPPOPULARRECENT