Monday , May 29 2017
Home / Top Stories / کاشی وشواناتھ مندر۔ گیان واپی مسجد تنازعہ

کاشی وشواناتھ مندر۔ گیان واپی مسجد تنازعہ

الہ آباد ۔ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے آج اپنی رجسٹری کو ہدایت دی کہ دو علحدہ درخواستیں جو برسوں قدیم کاشی وشواناتھ مندر۔ گیان واپی مسجد وارناسی کے تنازعہ کے سلسلہ میں ہیں، مناسب بنچ سے رجوع کی جائیں۔ جسٹس سنگیتا چندرا نے انجمن انتظامیہ مسجد وارناسی اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ لکھنؤ کی پیش کردہ درخواستوں پر حکمنامہ جاری کیا۔ انجمن انتظامیہ مسجد نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج وارناسی کے 1997ء اور 1998ء کے احکام کو چیلنج کرتے ہوئے ایک سیول مقدمہ جو کاشی وشواناتھ مندر ٹرسٹ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، مسترد ہوجانے پر یہ درخواستیں ہائیکورٹ سے رجوع کی تھیں۔ ٹرسٹ نے 1991ء میں مقدمہ دائر کیا تھا کہ مہاراجہ وکرمادتیہ نے 2 ہزار سال قبل اس مقام پر جہاں بعد میں مسجد تعمیر کی گئی، تعمیر کروایا تھا۔ اس نے الزام عائد کیا تھا کہ مندر 1664ء میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے حکم پر منہدم کرکے ایک مسجد اراضی کے حصہ پر قائم کی گئی تھی۔ منہدم عبادت گاہ کی باقیات اس کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ ٹرسٹ نے گیان واپی مسجد کی اس مقام سے علحدگی اور پوری اراضی کا قبضہ دینے کی درخواست کی تھی۔ انجمن انتظامیہ مسجد نے ادعا کیا تھا کہ مندر ۔ مسجد تنازعہ دیوانی عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قانون اس پر امتناع عائد کرتا ہے اور گذارش کی تھی کہ درخواست ابتدائی مرحلہ میں ہی مسترد کردی جائے۔ تاہم تحت کی عدالت نے اس کی درخواست مسترد کردی۔ سنی وقف بورڈ نے عدالت میں اے ڈی جے وارناسی کے احکام میں اس کی درخواست مسترد کئے جانے کو چیلنج کیا تھا کیونکہ وہ دیوانی مقدمہ کا ایک فریق تھا۔ ابتداء میں دونوں فریقین نے تحت کی عدالت کے دستور کی دفعہ 226 کے تحت درخواست کی سماعت کے جواز کو چیلنج کیا تھا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس چندرا نے ہدایت دی کہ دونوں درخواستیں ایسی بنچ سے رجوع کی جائیں جس کا دائرہ کار اس کی اجازت دیتا ہو۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT