Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / کاش صدام حسین و کرنل قذافی زندہ ہوتے

کاش صدام حسین و کرنل قذافی زندہ ہوتے

دنیا کی حالت اتنی ابتر نہ ہوگی : امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ
واشنگٹن 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اگر صدام حسین اور معمر قذافی جیسے ڈکٹیٹر زندہ ہوتے تو آج دنیا کی حالت بہتر ہوتی ۔ انہوں نے سی این این کے ٹاک شو میں کہا کہ آج مشرق وسطی امریکی صدر بارک اوباما اور سابق سکریٹری آف اسٹیٹ ہیلاری کلنٹن کے اطراف گھوم رہی ہے ۔ جب سوال کیا گیا کہ اگر عراق اور لیبیا میں صدام حسین اور کرنل قذافی زندہ ہوتے تو کیا آج دنیا کی حالت بہتر ہوتی انہوں نے جواب میں کہا کہ صد فیصد بہتر ہوتی ۔ صدام حسین کو 2006 میں پھانسی دی گئی جبکہ کرنل قذافی کو 2011 اکٹوبر میں ہلاک کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام کے ہاتھ کاٹے جا رہے ہیں۔ انہیں غرقاب کیا جا رہا ہے ۔ یہ صورتحال صدام اور قذافی کے وقت سے بد تر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ لیبیا میں تباہی ہوئی ہے ۔ لیبیا تباہ ہوگیا ۔ عراق تباہ ہوگیا ۔ شام میں تباہی ہے ۔ سارا مشرق وسطی تباہی کے دہانے پر ہے ۔ یہ سب کچھ ہیلاری اور اوباما کے گرد ہے ۔ انہوں نے عراق کو دہشت گردی کا ہارورڈ قرار دیا اور کہا کہ عراق دہشت گردوں کیلئے تربیتی میدان بن گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT