Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / کاش مودی ہوم ورک کرلیتے

کاش مودی ہوم ورک کرلیتے

فیض محمد ا صغر
سارے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ملک کے کونے کونے میں واقع بنکوں ‘ ڈاک خانوں اور اے ٹی ایم مراکز پر مرد و خواتین کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ یہ سب کچھ 56انچ سینے والے وزیراعظم نریندر مودی کے اچانک اعلان کردہ صرف ایک فیصلے کے نتیجہ میں ہورہا ہے۔ انھوں نے 8نومبر کی رات اچانک اعلان کردیا کہ اب 500 اور 1000 کی کرنسی نوٹوں کے چلن پر پابند عائد رہے گی۔ اپنے فیصلہ کی مدافعت میں مودی جی نے دلائل بھی پیش کئے کہ رشوت خوری کے انسداد‘ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے اور جعلی نوٹوں کے چلن پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روک لگانے کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوگیا تھا لیکن پچھلے دس دنوں سے ہندوستان میں صرف عام آدمی کے کراہنے اس کے تڑپنے کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں۔ 500 اور ہزار کی کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کیلئے بنکوں اور اے ٹی ایم مراکز کے باہر قطاروں میں کھڑے رہتے ہوئے زائد از 40افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملک کے چارسو ایک بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ لوگ رو رہے ہیں۔ چیخ رہے ہیں۔ مودی جی کی شان میں متعلقات بک رہے ہیں۔ شائد نریندر مودی ہندوستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنھیں خانہ دار خواتین سے لیکر بزرگ شہریوں نے گالیوں سے نوازا ہے۔ مودی جی کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ لوگ حکمرانوں کو دعاؤں سے نوازاتے ہیں لیکن عوام انھیں گالیوں سے نواز رہے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے نام پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تقریباً میڈیا نے اپنے گلے میں غلامی کا طوق ڈال لینے کی قیمت وصول کرلی ہے۔ ایک دو ٹی وی چیانلوں کو چھوڑ کر سارے ٹی وی چیانلوں پر مودی جی کو شاباشی دی جارہی ہے۔ مباحثوں میں صرف مودی کے بھکت ہی ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے حلابے ملارہے ہیں اور کجریوال ممتابنرجی مایاوتی اور سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے قائدین کے بیانات کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے ذریعہ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال ان کی پارٹی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کے علاوہ عام ہندوستانی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ واٹس اپ‘ فیس بک‘ ٹوئٹر‘ انسٹاگرام وغیرہ کے ذریعے ایسے پوسٹ سامنے آرہے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت نے 500 اور ہزار کی کرنسی نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کا فیصلہ تو کرلیا لیکن اس نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا۔ اے ٹی ایم مشینوں کو نئی کرنسی کے مطابق نہیں ڈھالا گیا۔ ایک طرح سے غریب اور متوسط طبقہ کو سڑکوں پر لاکھڑا کردیا گیا۔دوسری طرف غلامی کے دلدل میں ڈوبے ہوئے میڈیا ہر مسئلہ پر مودی اور ان کی حکومت کی مدافعت کررہا ہے۔ اس کے ترجمان کی حیثیت سے خود کو پیش کرنے میں وہ سب سے آگے ہیں حالانہ میڈیا عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت کے سامنے ڈٹ جاتا ہے تاہم یہاں معاملہ ہی الٹا ہے۔ حکومت اور اپنے مفاد کی خاطرمیڈیا کا چاپلوس گوشہ عوام کے خلاف ڈٹا نظر آرہا ہے۔

 

مودی حکومت کے پاس عوام کے کئی سوالات کے جواب نہیں ہے۔ مثال کے طورپر کئی صنعت کار بنکوں کو اربوں روپئے واجب الاداہے لیکن وہ قرضوں کی ادائیگی میں ناکام ہیں۔ اگر حکومت کالے دھن پر قابو پانے میں اتنی ہی سنجیدہ ہوتی تووہ سب سے پہلے قرضوں کی ادائیگی میں ناکام نا دہندگان کی جائیدادوں کو قرق کرلیتی لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ بنکوں کو 9ہزار کروڑ روپئے کا چونا لگانے والے روجئے مالیہ کو نہ صرف ملک سے راتوں رات فرار کرایا جاتا ہے بلکہ اسے برطانیہ جیسے ملک میں پرتعیش زندگی گذارنے کا پورا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ کالے دھن اور بدعنوانی کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت للت مودی کو لندن سے واپس لانے پر توجہہ نہیں دیتی۔ ہاں اگر کوئی غریب اپنے روتے بلکتے بچوں کیلئے روٹی چرانے کی جرأت کرتا ہے تو قانون کے رکھوالے اسے چور قرار دے کر اس کے ہاتھ توڑ دیتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا غریب پھر دوبارہ روٹی چرانے کی غلطی نہ کرے۔ حالیہ عرصہ کے دوران پناما پیپرلکس منظر عام پر آیا جس میں 500 ہندوستانیوں کے نام لئے گئے۔ مودی ان 500بڑے چوروں بلکہ قومی دولت لوٹنے والے لٹیروں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے وقفہ وقفہ سے ان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ ان میں کسی کو سرکاری محکموں اور ریاستوں کا برانڈ ایمبسیڈر بنایا جارہا ہے۔پچھلے 30 ماہ کے دوران مودی حکومت کے عوام دشمن اقدامات اپوزیشن کی خاموشی کو دیکھ کر تو یہی لگ رہا ہے کہ حزب اختلاف کے قائدین کو بلیک میل کیا جارہا ہے۔ ورنہ سنگین سے سنگین مسئلہ پر ان کی زبانیں گنگ ہونا چہ معنی دارد۔ اچھے دن کے وعدے کرنے والے مودی کے ڈھائی سالہ اقتدار میں سب سے زیادہ وحشیانہ سلوک مسلم اقلیت کے ساتھ کیا گیا انھیں ذبیحہ گاؤ سے لیکر یوگا غرض مختلف بہانوں سے ہراساں کیا گیا۔ ان کے جان و مال اور عزت و عفت سے کھیلا گیا۔ مودی نے ہر بار مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ مودی حکومت کے موجودہ اقدامات اپوزیشن کیلئے نعمت غیر مترقبہ ہیں۔ وہ حکومت کے خلاف آواز بلند کرکے لوگوں کو حب الوطنی کے نام پر متحد کرسکتی تھی لیکن وہ مودی حکومت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے سے بالکل قاصر رہی۔ اپوزیشن کی کمزور کی جب بات آتی ہے تو کانگریس سب سے کمزور دکھائی دیتی ہے۔ ملک کی سب سے قدیم اس پارٹی کی خاموشی کے باعث ہی آج مودی اقتدار پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مودی کو صرف 33 فیصد عوام نے منتخب کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ 67 فیصد ہندوستانیوں نے مودی اور بی جے پی کی مخالفت کی لیکن کانگریس کی موقع پرستانہ سیاست اور فرقہ پرستوں کی انسانیت دشمنی پر اس کی خاموشی اور کمزوری نے مودی کو اس قدر طاقتور کردیا کہ اڈوانی جیسے لیڈر کو بھی انھوں نے دیوار سے لگادیا۔ اگر کانگریس گجرات فسادات کے بعد مرکز میں اپنے اقتدار کے دوران پوری سنجیدگی سے مودی جی کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرتی تو آج دادری میں گائے کے گوشت کے نام پر اخلاق کا ‘ جھارکھنڈ میں امتیاز خان اور مظلوم انصاری احمد آباد میں محمد ایوب میواتی کے قتل نہیں ہوتے اور نہ ہی ہریانہ میں گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلم خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات پیش آتے۔ کسی مسلم نوجوانوں کو گائے کا گوبر کھلانے اور پیشاب پلانے کی کوئی جرات نہ کرسکتا تھا۔ یہاں تک کہ آج کسی بوڑھی خاتون بزرگ مرد اور نوجوانوں کوں بنکوں کے باہر کرنسی کے تبادلہ کیلئے گھنٹوں انتظار نہ کرنا پڑتا ۔ افسوس اس امر پر ہے کہ حکومت کرنسی کے بحران کو بھی فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ مرکزی وزیر دفاع بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ایک ہزار اور پانچ سو کی نوٹوں پر پابندی سے کشمیر میں سنگباری کا سلسلہ رک گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیری 5سو کی نوٹ کیلئے اپنی جان کی بازی لگاکر سنگباری کرتے ہیں۔ کشمیر ہندوستان کا جزلائنفک ہے اور کشمیری ہندوستانی ہے۔ منوہر پاریکر نے اس طرح کی بکواس کے ذریعہ کشمیریوں کی توہین کی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بی جے پی میں جو کوئی بول رہا ہے دراصل وہ نہیں بلکہ پیسہ بول رہا ہے۔ وہ پیسہ بلیک منی ہے یا وائٹ اس بارے میں مودی کے حامی اور میڈیا کے خودساختہ ادارے ہی بہتر جانتے ہیں۔ کاش مودی اس قدر بڑا فیصلہ کرنے سے قبل اُن اسکولی بچوں سے سبق حاصل کرتے جو امتحان یا ٹسٹوں سے قبل اپناہوم ورک اچھی طرح کرلیتے۔

TOPPOPULARRECENT