Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / کاش میرا بیٹا واپس آتا! شہید امتیاز خان کے والدہ کی فریاد

کاش میرا بیٹا واپس آتا! شہید امتیاز خان کے والدہ کی فریاد

محمد ریاض احمد
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ میرا نور نظر میرے دل کا سکون و قرار ہماری اُمیدوں کا محور ہماری ارمانوں اُمنگوں کی تکمیل کی فکر میں ہمیشہ غرق رہنے والا میرا بیٹا کہیں دور سے تھکا ماندہ آئے گا اور مجھ سے کہے گا امی! روٹی لاؤ بہت بھوک لگی ہے !! اور سنو میں نے پڑوس کے گاؤں میں لگے میلے سے تمہارے لئے بہت خوبصورت چوڑیاں باجی شبانہ، فرزانہ اور چھوٹی بہن سکینہ کے لئے دوپٹے لائے ہیں، ماں تم مسکراتی ہوتو بہت اچھ لگتا ہے … اللہ، تمہارے چہرے پر ہمیشہ ایسی ہی مسکراہٹیں رکھے اور ہاں سنو میں نے بازار سے ابو کے لئے دوائیں بھی لے آئی ہیں ماں!! فکر نہ کرو تمہارا یہ بیٹا دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں پر ڈالدے گا‘‘۔ اکثر وہ مجھ سے ایسے ہی باتیں تو کیا کرتا تھا۔

دل کو دہلا دینے والے یہ الفاظ اُس 13 سالہ لڑکے امتیاز خان کی غمزدہ ماں کے ہیں جسے 18 مارچ کو جھارکھنڈ کے ضلع لاتیہار کے موضع جھابر میں فرقہ پرست درندوں نے درخت سے لٹکاکر شہید کردیا ہے۔ 18 مارچ کو پیش آئے اس واقعہ نے گزشتہ سال دادری میں عین بقرعید کے دن پیش آئے اخلاق احمد کے قتل کی یادیں تازہ کردیں ۔ اخلاق احمد کو ذبیحہ گاؤ کے نام پر ہندو فرقہ پرست درندوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ اُس واقعہ میں اخلاق کے فرزند شدید زخمی ہوگئے، لیکن اللہ جسے رکھے اسے کون چکھے کے مصداق اخلاق احمد کا جواں سال بیٹا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا اس کا زندہ بچ جانا فرقہ پرستوں کے لئے یہ واضح پیام تھا کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔ راقم الحروف نے شہید امتیاز خان کی ماں نجمہ بی بی ار ان کے دیگر ارکان خاندان سے بات چیت کی اور نے روتے روتے بتایا کہ جانوروں کے تحفظ کے نام پر ان کے لاڈلے بیٹے کو ظالموں نے درخت سے لٹکاکر پھانسی دے دی۔ ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ جانور کے لئے ایک انسان کے بچہ کو موت کی نیند سلارہے ہیں۔ ماں باپ سے ان کی امیدیں اور بڑھاپے کا سہارا اور بھائی بہنوں سے ان کا بھائی چھین رہے ہیں۔ دوران بات چیت نجمہ بی بی مسلسل رو رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا ’’ہمارا بیٹا بہت ہی فرمانبردار، عقلمند اور خاندان کی ہر حال میں مدد کرنے کی فکر کرنے والا تھا۔ اس نے مقامی سرکاری اسکول سے چوتھی جماعت تک پڑھائی کی اور پھر گھر کے حالات اپنے ابو کی بیماری اور بہنوں کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے چھوٹے بڑے کام کرنے لگا۔ اس طرح وہ ماہانہ کچھ نہ کچھ کمائی کرلیتا۔ نجمہ بی بی نے بتایا امتیاز خاں کو ہمیشہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کی فکر لگی رہتی ۔ وہ یہی کہتا کہ مجھے اپنے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو خوشیاں دینی ہے۔ اس کے لئے وہ خود کو ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھتا لیکن 18 مارچ کو انسانیت کے دشمنوں نے میرے نور نظر کو قتل کرتے ہوئے ہمارا مستقبل تاریک کردیا۔ سارے گھر کی خوشیاں چھین لیں، ماں باپ کو عمر بھر کا غم دیدیا اور بھائیوں بہنوں کو غمزدہ کردیا‘‘۔ نجمہ بی بی کا ہر لفظ ایسا لگ رہا تھا کہ آنسو بہارہا ہو کیونکہ اگر کسی نوجوان بیٹے کی نعش اس کی ماں کے سامنے رکھی جائے اس کے جنازے کو بیمار باپ کاندھا دے تو دیکھنے والوں کا دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ کرب والم سے سارا وجود کانپنے لگتا ہے۔ عقل ماوف ہو جاتی ہے نجمہ بی بی بھی ایسے ہی درد والم اور کرب سے گذررہی تھیں۔ اس ماں کو تسلی دینا اس کی دلجوئی کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ یہی سوچ کر ہم نے اسے تسلی بھی دی اور گفتگو کے سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ نجمہ  بی بی نے بتایا کہ ان کے شوہر آزاد خاں کچھ عرصہ قبل ایک حادثہ میں زخمی ہوگئے تھے۔ ان کے پیر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اپنے ابو کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے امتیاز خاں کم عمر ہونے کے باوجود محنت کرنے لگاتھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ سات بچوں کی ماں ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی شبانہ خاتون کی شادی ہوچکی ہے۔ دوسرا لڑکا فیروز خان ہیں جو گھر میں رہتا ہے۔ تیسری لڑکی رخسانہ ہے جس کی عمر 17 سال ہے۔ چوتھی لڑکی فرزانہ خاتون ہے جس کی عمر 14 سال ہے۔ امتیاز خان کا نمبر پانچواں تھا۔ چھٹویں لڑکی سکینہ خاتون اور ساتواں لڑکا منہاج خان ہے۔ ان میں سے صرف تین بچے اسکول جاتے ہیں۔ ازاد خان کھیتی باڑی کرتے ہیں غربت کے باوجود یہ خاندان پرسکون زندگی گذاررہا تھا ان کے چہروں پر خوشیاں ہی خوشیاں تھیں کبھی بھی ان میں غربت کے آثار تک دکھائی نہیں دیتے، لیکن فرقہ پرست درندوں نے ایک معصوم لڑکے کو بیدردانہ انداز میں قتل کرکے اس خاندان سے خوشیاں ہی چھین لیں۔ آپ کو بتادیں کہ شہید امتیاز خان کا خاندان ارہرا نامی ایک موضع میں رہتا ہے جو رانچی سے 110 کیلو میٹر (70 میل) دور ہے۔ امتیاز خاں کو ان کے ایک خاندانی دوست مظلوم انصاری کے ساتھ اس وقت شہید کیا گیا جب وہ قریب کے ایک گاؤں میں منعقدہ مویشی میلہ میں اپنے دو بیل اور مظلوم انصاری کے 6 بیل فروخت کرنے کے لئے لے جارہے تھے۔ گاؤرکھشا سمیتی اور دوسری ہندو تنظیم سے وابستہ 10 تا 12 غنڈوں نے انہیں روکا اور پھر شدید زدوکوب کے بعد ایک قدیم درخت سے لٹکا دیا۔ ان درندوں نے مظلوم انصاری اور امتیاز خان کے ہاتھ پیچھے سے باندھ دیئے تھے اور ان کے منہ میں کپڑے ٹھونس دیئے گئے تاکہ وہ کسی کو مدد کے لئے بلا نہ سکیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی نے اس انسانیت سوز واقعہ کی مذمت کرنے کی بجائے ایسی ہی خاموشی اختیار کی جیسے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی پر چھائی رہتی ہے۔

’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے ہندوستانی عوام کو بے وقوف بنانے والوں نے اقتدار تو حاصل کرلیا لیکن اقتدار کے 22 ماہ بعد بھی مودی جی خود کو سارے ہندوستانیوں کا وزیر اعظم ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ بحیثیت وزیر اعظم انہیں چاہئے تھا کہ وہ گاؤ رکھشا سمیتی کے غنڈوںکے ہاتھوں 33 سالہ مظلوم انصاری اور 13 سالہ امتیاز خان کے قتل کی مذمت کرکے خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے جب بھی منہ کھولا تو اپوزیشن کے خلاف طنز و طعنوں کے لئے اپنی زبان کا استعمال کیا کاش نریندر مودی امتیاز خاں شہید کی ماں کی سسکیوں کو سنتے اس کی کمزور آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو دیکھتے اپنے بھائی کی جدائی سے دلبرداشتہ امتیاز کے بھائی بہنوں کا غم اور اداسی انہیں نظر آتی تو شاید فرقہ پرستوں کے حوصلہ پست ہو جاتے وہ حیوانوں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کے قتل سے باز آجاتے۔ جھارکھنڈ کے مسلمانوں سے لے کر سیکولر عوام خاص کر سی پی آئی ایم کی سینئر لیڈر برندا کرت نے انسانوں کے قاتلوں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظلوم انصاری اور امتیاز خان کے ارکان خاندان کا مطالبہ ہے کہ حکومت جھارکھنڈ مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے اور ایک فرد خاندان کو سرکاری ملازمت دے، لیکن جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت کی انسانیت دشمنی کا حال یہ ہے کہ چیف منسٹر مسٹر رگھویرداس بڑی بے شرمی سے اسے بڑے جانوروں کی اسمگلنگ روکنے کا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے مظلوم انصاری اور امتیاز خان کے پسماندگان سے ظالمانہ مذاق کرتے ہوئے ان خاندانوں کو فی کس ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کیا۔

ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے ہم چیف منسٹر رگھویر داس سے یہ سوال کریں کہ اگر امتیاز خان کی جگہ ان کا بیٹا یا پوتا اور مظلوم انصاری کی بجائے ان کا بھائی یا بیٹا ہوتا تو وہ کیا کرتے؟ درندوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے اپنے بیٹے بوتے یا بھائی کی جان کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے مقرر کرتے ہوئے اسے خوشی خوشی حاصل کرلیتے؟ نہیں نا … ! ! تو پھر چیف منسٹر جھارکھنڈ کو انسانی نقطہ نظر سے اس تمام واقعہ کا جائزہ لے کر اپنے انسان ہونے کا ثبوت دینا چاہئے تاکہ ان مظلوم مسلمانوں کو انصاف مل سکے۔ صرف 8 ملزمین کو گرفتار کرنے سے پولیس یا حکومت کی ستائش نہیں کی جاسکتی بلکہ حکومت اور پولیس اس وقت ستائش کی حقدار ہوگی جب ان ملزمین کو ان کے گناہوں اور جرائم کی سزا دی جائے گی۔ بہرحال نجمہ بی بی زارو قطار روتے ہوئے اپنے شہید بیٹے امتیاز خان کی اچھائیاں گننے لگیں۔ انہوں نے بتایا ’’ہمارا بیٹا ہماری کسی بات کو نہیں ٹالتا، اپنے ابو کے پیر کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث وہ رات دن محنت کرنے لگا تھا۔ وہ 18 مارچ کو صبح کی اولین ساعتوں میں دو بیل لے کر انہیں فروحت کرنے کے لئے مظلوم انصاری کے ساتھ نکل چکا تھا۔ یہ بیل آزاد خان (امتیاز خان کے والد) نے 48 ہزار روپے میں خریدے تھے اور وہ کچھ زیادہ فائدہ سے انہیں فروخت کرنے کے لئے مویشی میلہ میں لے جارہا تھا کہ گاؤ رکھشا سمیتی کے غنڈوں نے انہیں روک لیا ہے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ امتیاز خان کی غمزدہ ماں نے مزید بتایا کہ ان سے ان کا نور نظر چھیننے والوں نے ایک غریب خاندان کی آمدنی کا ذریعہ ختم کردیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے ایک لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے لیکن خاندان نے حکومت کے معاوضہ کو ٹھکرادیا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے ایک انسانی جان کی قیمت ایک لاکھ روپے مقرر کردی ہے۔ اپنے گاؤں آرہرا کے بارے میں نجمہ بی بی نے بتایا کہ اس گاؤں میں 100 گھر ہیں جن میں مسلمانوں کے چار گھر ہیں۔ تمام لوگ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں، لیکن بعض لوگوں نے گائے کے نام پر مسلمانوں کے خلاف مشکلیں کھڑی کی ہیں حالانکہ مسلمان اپنے ہندو پڑوسیوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ سیاسی فائدے کے لئے کیا جارہا ہے، اگر ان لوگوں کا بس چلے تو اپنی ماں کو بھی نہ بحشیں۔ انہیں مذہب یا گائے سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ وہ اپنے مفادات کے غلام ہیں۔ ایک دیہاتی خاتون کی زبان سے اس طرح کی باتیں سن کر ہم حیران رہ گئے اور یہ سوچنے لگے کہ نجمہ نے فرقہ پرستوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے سچ ہی کہا ہے اس لئے کہ یہ لوگ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشاروں پر کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے ہیں انہیں کسی ماں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں اور نہ ہی کسی باپ کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو انہیں متاثر کرتے ہیں وہ اتنے سنگدل ہوتے ہیں کہ نوجوان شہیدوں کی بیواؤں اور بچوں کی فریادیں بھی وہ نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان درندوں میں گائے اور بیل کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت بھی نہیں پائی جاتی وہ بیلوں کی طرح اپنے آقاؤں کے اشارہ پر چلتے ہیں گدوں کی طرح انسانوں کو نوچ کھاتے ہیں۔ کسی کام میں ان کی اپنی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ویسے بھی انسانیت محبت مروت اور صلہ رحمی یہ ایسی خوبیاں ہیں جو صرف انسانوں میں پائی جاتی ہیں فرقہ پرست حیوانوں میں نہیں … ! ہاں ان میں شیطانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ آج ایک ماں اپنے بیٹے کی موت کے باعث مجسم غم بنی ہوئی ہے اسے ہمدردی ، مدد اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ روزنامہ سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان کی ایک آواز پر دنیا کے کونے کونے میں مقیم ہندوستانی ہر مظلوم اور بے بس کی مدد کے لئے دوڑ پڑتے ہیں وہ ان کی امداد میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتے۔ حیدرآباد سے لے کر ممبئی، گجرات سے لے کر مظفر آباد اور دہلی سے لے کر کشمیر تک جب بھی کوئی مظلوم و بے بس مدد کے لئے پکارتا ہے تو خاص طور پر سیاست ملت تک ان مظلوموں کا پیام پہنچا کر انہیں مدد کی ترغیب دیتا ہے۔ ویسے بھی حیدرآباد شہریوں کو اللہ عزوجل نے ایسے پریشان حال بھائیوں کی مدد کا ہمیشہ اعزاز بخشا ہے اور اس شہر کو اور اس کے باشندوں کو ہندوستان کے ہر مظلوم کی دعائیں حاصل ہیں۔ امتیاز خان کے خاندان کی مدد کرنے والوں کی سہولت کے لئے ان کا اکاؤنٹ نمبر دیا جارہا ہے۔
NAME. NAJMA BIBI & AJAD KHAN
(JOINT ACCOUNT)
AC.NO- 35653987731
STATE BANK OF INDIA
BRANCH CODE: 14728
IFSC CODE SBIN0014728
BRANCH – HERHANJ
JHARKAND

TOPPOPULARRECENT