Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کالادھن ، جے این یو اور روہت تنازعات پر وزیراعظم خاموش

کالادھن ، جے این یو اور روہت تنازعات پر وزیراعظم خاموش

کانگریس پر اہم بلوں کی منظوری میں رکاوٹ کا الزام ، اپوزیشن سے تعاون کی اپیل ، مودی کی تقریر
نئی دہلی ۔ /3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کانگریس پر الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں مسلسل خلل پیدا کررہی ہے اور اہم بلوں کی منظوری میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن سے رجوع ہوکر اپنی حکومت میں بہتری لانے کیلئے ان سے تائید کی خواہش کی اور کہا کہ اپوزیشن کی حمایت اس وقت بے حد ضروری ہے ۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ کانگریس جواہر لال نہرو اور دلت طالب علم کی خودکشی جیسے مسائل کو اٹھاکر پارلیمنٹ میں احتجاج کررہی ہے اور کارروائیوں کو درہم برہم کردیا جارہا ہے ۔ وزیراعظم مودی آج لوک سبھا میں تقریر کررہے تھے ۔ انہوں نے کانگریس کی تنقیدوں کے جواب میں نرمی سے کام لیا اور اپنی حکومت کی جانب سے کئے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اصل اپوزیشن پارٹی ایسا اس لئے کررہی ہے کیوں کہ وہ اپنے اعلیٰ قائدین کے احساس کمتری کا شکار ہونے سے پریشان ہے اور داخلی طور پر کانگریس میں کئی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ انہوں نے جواہر لال نہرو ، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور ملک کے پہلے صدرجمہوریہ راجندر پرساد کی جانب سے دیئے گئے بیانات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ قائدین پارلیمانی کارروائی میں خلل اندازی کے خلاف تھے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اگر ’’توتو میں میں‘‘ کی رٹ لگائی جاتی رہی تو اس سے ساری قوم متاثر ہوگی ۔ اس حکومت کو بھی اپنے اندر بہتری لارنے کی ضرورت ہے اور یہ اپوزیشن کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا میں تو نووارد ہوں ۔ آپ تمام لوگ تجربہ کار ہیں مجھے آپ کے تجربوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومتیں آتی اور جاتی ہیں ۔ ہم کو کاندھے سے کاندھا ملاکر کام کرنا چاہئیے ۔ نریندر مودی صدرجمہوریہ کے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک پر مباحث کا جواب دے رہے تھے ،جن کے خطاب کو منظور کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کو بیورو کریسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ اس کے لئے لیجسلیچرس کی اہمیت ضروری ہے ۔ کسی بھی پارٹی کا ایک بھی رکن پارلیمنٹ ہے تو اس کو ’’وزیراعظم‘‘ کی طرح برتاؤ کرنا چاہئیے ۔ اپنی 75 منٹ کی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے تاہم خصوصی مسائل جیسے راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا ۔

اپنے دورہ پاکستان ، کالے دھن ، جے این یو اور دلت طالب علم کی خودکشی کے مسئلہ پر وہ خاموش رہے ۔ راہول گاندھی کا نام لئے بغیر وزیراعظم نے کہا کہ کسی پر بھی کیچڑ اچھالنا بہت آسان ہے ۔ ہمارے درمیان ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن سے ہر قسم کا سوال کیا جاسکتا ہے لیکن بعض ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں ان سے سوال کرنے کی کوئی ہمت نہیں کرسکتا ۔ راہول گاندھی کا نام لئے بغیر وزیراعظم نے بظاہر کل پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کے ریمارک کا جواب دے رہے تھے ۔ جنہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم کو دوسری کی بات کو بھی سنی چاہئیے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوسروں کو درس دینا آسان ہے ۔ ہمارے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے جو ہر قسم کے سوالات کرتے ہیں لیکن ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن سے سوال کرنے کی کوئی بھی ہمت نہیں کرسکتا ۔ مجھ سے کئی سوالات کئے جارہے ہیں ۔ مجھ پر تنقیدیں ہورہی ہیں اور گزشتہ 14 سال سے الزامات بھی عائد کئے جارہے ہیں ۔ اب میں نے ان سب کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے ۔ 2002 ء کے گجرات فسادات کے بعد ان پر کی جانے والی تنقیدوں کا وہ حوالہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے راہول گاندھی پر تنقید کی کہ وہ ان کی حکومت کو نشانہ بناتے جارہے ہیں ۔

کانگریس کے نائب صدر نے ایک پریس کانفرنس میں منموہن سنگھ کی زیرقیادت کابینہ کی جانب سے منظور کردہ آرڈیننس کو پھاڑ دیا تھا ۔ انہوں نے میک ان انڈیا پروگرام کیلئے ان کی حکومت پر راہول گاندھی کی تنقید کا بھی جواب دیا ۔ پارلیمنٹ میں مسلسل خلل اندازی اور کئی بلوں کی عدم منظوری پر مودی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا جارہا ہے ۔ اپوزیشن نے کئی نوجوان قائدین کا مستقبل روشن ہے اور یہ قائدین قابل بھی ہے ۔ ہمیں ان کی بات سننے کا موقع نہیںدیا جارہا ہے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جب یہ نوجوان قائدین بول اٹھیں گے تو ہمارا کیا ہوگا ۔ نریندر مودی نے ماضی میں راجیو گاندھی کے اس خیال کو دہرایا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کو روک دینے سے انہیں بے حد تکلیف ہوتی ہے اور حکومت کو بھی دھکا پہنچتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ارکان کو بھی یکساں ان حالات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ لوک سبھا میں بعض بلوں کو منظور کرانے کیلئے اسپیکر سمترا مہاجن نے کوشش کی ہے لیکن اس کوشش میں وہ ناکام رہی ۔ کیونکہ راجیہ سبھا میں ان بلوں کو روک دیا جائے گا جہاں پر اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT