Thursday , September 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / کالیس جنوبی افریقی ہونے پر شرمندہ

کالیس جنوبی افریقی ہونے پر شرمندہ

جوہانسبرگ ۔27 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)جنوبی افریقی سابق آل راؤنڈر جاک کالیس نے کہا ہے کہ وہ وزارت کھیل کی جانب سے کرکٹ سمیت ملک کی پانچ اسپورٹس فیڈریشنز پر پابندی کے بعد خود کو جنوبی افریقی کہنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے وزیر کھیل فکیلے ایم بلولا نے سیاہ فام کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنے میں ناکامی پر رگبی، کرکٹ، فٹ بال، نیٹ بال اور ایتھلیٹکس کی اسپورٹس فیڈریشنز پر کم از کم ایک سال کی پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد اب وہ کسی بھی انٹرنیشنل ٹورنمنٹ میں بولی لگانے یا اس کی میزبانی کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب ملک کے پانچ بڑے کھیلوں میں ‘تبدیلی’ اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے حوالے سے رپورٹس وزارت کھیل کو موصول ہوئی تھیں۔ اس معاملے پر جنوبی افریقہ کی تاریخ کے کامیاب ترین آل راؤنڈر کالس نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کھیل میں سیاسی مداخلت کو افسوس ناک قرار دیا۔انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انتہائی افسوس ہے کہ مجھے آج کل خود کو جنوبی افریقی کہتے ہوئے کچھ زیادہ ہی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، کھیل میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔علاوہ ازیں جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے سابق اسپنر پیٹ سمکاکس کی جانب سے خبر کا لنک ری ٹوئٹ کرنے پر اکتفا کیا جس میں سوئمنگ اور گالف جیسے کھیل، پابندی سے بچنے پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ پیٹ سمکاکس کے سوال کا جواب یہ ہے کہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ اور رگبی، فٹبال، نیٹ بال اور ایتھلیٹکس میں ان کی ساتھی فیڈریشنز نے ‘بگ فائی’ کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا

جس نے گزشتہ سال وزارت کھیل کے ساتھ ایک معاہدے کی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ یہ معاہدے کی یادداشت عوامی سطح پر نہیں آ سکی لیکن اس میں خاص طور پر تبدیلیاں کرنے اور اہداف کے حصول کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔ اس لئے ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا گیا جو اس نتیجہ پر پہنچی کہ پانچوں کھیلوں میں سے صرف فٹ بال مقررہ اہداف کے حصول میں کامیاب رہی۔ اس کمیشن کے رکن ولی بیسن نے کہا کہ افریقی ٹیموں کے لئے 60 فیصد مختلف رنگ و نسل کے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنا لازمی ہے جس میں افریقی سیاہ فام، مختلف رنگ و نسل اور ہندوستانی کھلاڑی شامل ہیں۔ کرکٹ میں یہ تناسب 55 فیصد مقرر کیا گیا ہے لیکن کرکٹ ساؤتھ افریقہ صرف نو فیصد کے حصول میں کامیاب رہی۔ ورلڈ کپ 2015 کے اختتام کے بعد سے اب تک جنوبی افریقہ نے ہر میچ میں کم از کم ایک سیاہ فام کھلاڑی کو ضرور قطعی11  کا حصہ بنایا جبکہ انگلینڈ کے خلاف بلوم فونٹین میں کھیلے گئے میچ میں ایک سے زائد سیاہ فام کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ اس پابندی پر نظرثانی اگلے سال سالانہ رپورٹ کے بعد کی جائے گی لیکن کرکٹ جنوبی افریقہ کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ 2020 سے قبل کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی نہیں کرے گا لیکن رگبی کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اب وہ 2023 رگبی ورلڈ کپ کیلئے بولی لگانے کے عمل میں شریک نہیں ہو سکتے۔

TOPPOPULARRECENT