Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / کالے دھن کو سفید بنانے والی فرضی کمپنیوں کا خاتمہ ناگزیر

کالے دھن کو سفید بنانے والی فرضی کمپنیوں کا خاتمہ ناگزیر

ٹیکس چوری کے انسداد اور صاف ستھری معیشت کیلئے سخت اقدامات درکار : ارون جیٹلی
نئی دہلی ،22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ بیرون ملک کالا دھن رکھنے والے اس کو سفید بنا کر ملک میں لانے کیلئے روایتی طور پر فرضی کمپنیوں کا استعمال کرتے رہے ہیں اور جتنی جلداس طریقہ کار کو ختم کیا جائے گا اتنی ہی جلدی معیشت صاف ستھری ہو جائے گی۔ جیٹلی نے یہاں ساتویں دہلی اکانامکس کنکلیو میں مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا، ’’کالا دھن کو سفید بنانے کا سب سے آسان ذریعہ فرضی کمپنیاں تھیں۔ کاروباری اور سیاسی افراداس کا یکساں طور پر اس کا استعمال کر رہے تھے ۔ اس میں کئی کمپنیوں سے ہوکر پیسہ بالآخر حقیقی مالک کے پاس سفید دولت کے طور پر پہنچ جاتا تھا جو اس کے بعد اس رقم سے سرمایہ کاری کرتا تھا۔ جتنی جلد یہ نظام ختم ہو جائے گا اتنی جلدی معیشت صاف ستھری ہو جائے گی‘‘۔ وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ تین سال میں ایک ایک کر کے تین بڑی تبدیلیوں کے ذریعے بڑی حد تک اس پر لگام لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ سب سے پہلے اس نے کالا دھن (غیر اعلانیہ غیر ملکی آمدنی اور اثاثہ) اور ٹیکسیشن ایکٹ، 2015 لاگو کیا جس سے لوگوں کے لئے بیرون ملک کالا دھن رکھنا مشکل ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے دیوالیہ سے متعلق قانون بنایا جس سے بڑے امیر طبقوں کے لئے بینکوں سے قرض لے کرہضم کر جانا ممکن نہیں ہوگا۔ تیسرے مرحلے کے تحت حکومت نے نوٹ بندي کی جس میں متوازی معیشت ختم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے پہلے ٹیکس چوری اور متوازی معیشت ملک میں عام بات ہو گئی تھی۔ اس میں اہم تبدیلی کیلئے حکومت نے قدم اٹھائے ہیں جس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے ۔

پارٹیاں سیاسی چندہ نظام میں تبدیلی نہیں چاہتے : جیٹلی
سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے چندہ پر گزشتہ دنوں سے جاری بحث کے درمیان وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج واضح لفظوں میں کہا کہ سیاسی جماعتیں موجودہ نظام میں تبدیلی نہیں چاہتی ہیں۔ انھوں نے اکنامکس کانکلیو میں کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت گزشتہ ستر سال سے نظر نہ آنے والے پیسے پر پل رہی ہے ۔ میں نے بجٹ میں ایک تجویز پیش کی تھی اور سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ میں اور تحریری طور پر بھی اس پر مشورے طلب کئے تھے کہ سیاسی چندے میں کالے دھن کے استعمال کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اب تک کسی بھی سیاسی جماعت نے کوئی مشورہ نہیں دیا، ایسا لگتا ہے کہ وہ موجودہ نظم میں تبدیلی نہیں چاہتے۔

TOPPOPULARRECENT