Friday , April 28 2017
Home / ہندوستان / کالے دھن کے خلاف دوسرے مرحلہ کی مہم شروع

کالے دھن کے خلاف دوسرے مرحلہ کی مہم شروع

60 ہزار افراد پر نظر، بڑے نقدی ڈپازٹس کی جانچ ہوگی، دھاوے اور تلاشی مہم بھی متوقع، محکمہ انکم ٹیکس کا بیان

نئی دہلی 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے مابعد نوٹ بندی کالا دھن جمع کرنے والوں کا پتہ چلانے کے لئے آج ’’آپریشن کلین منی‘‘ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز کردیا جس میں زائداز 60 ہزار نہایت مشکوک اشخاص کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جن کو تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے گا۔ سی بی ڈی ٹی نے کہاکہ اگلے مرحلہ کے تحت تفصیلی تحقیقات سے گزرنے والے لوگوں کے زمرہ میں تجارتی گھرانے اور دیگر ادارے شامل ہیں جو کیاش ڈپازٹ کے ذریعہ کے طور پر نقد فروخت کا دعویٰ کرتے ہیں جیسے پٹرول پمپس اور دیگر ضروری خدمات کے ادارے مثلاً دواخانے۔ ان تمام کو نوٹ بندی کی مدت کے دوران ایسے لین دین میں پایا گیا ہے جو اُن کے ماضی کے حساب کتاب سے میل نہیں کھاتے۔ سرکاری اور حکومت کے تحت چلنے والے اداروں سے وابستہ ملازمین کی بھی تحقیقات ہوگی جنھوں نے بڑی نقدیاں جمع کرائی ہیں۔ ایسے لوگ جنھوں نے بڑی نقد قدر والی خریداریاں کی ہیں اُنھیں بھی محکمہ کی جانچ سے گزرنا ہوگا۔ فرضی کمپنیاں اور وہ جنھوں نے ٹیکس حکام کے سوالات کے جواب نہیں دیئے، اُنھیں بھی انکوائری کے تحت رکھا گیا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ڈپازٹس کی کوئی حد نہیں ہے لیکن تازہ آپریشن کے تحت تمام مشکوک اور  اُس سے ملتے جلتے لین دین انکوائری کے تحت آئیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ نئے آپریشن میں خاص طور پر بڑی قدر والے ڈپازٹس کی جانچ کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ 60 ہزار افراد کو ابتدائی پیام آن لائن میڈیم کے ذریعہ دیا گیا لیکن ٹیکس حکام حسب ضرورت دھاوے اور تلاشی مہم بھی کریں گے اور متعلقہ فرد سے دستاویزات طلب کریں گے۔ آپریشن کا پہلا مرحلہ 31 جنوری کو شروع ہوکر 15 فروری کو اختتام پذیر ہوا تھا، اُس وقت 5 لاکھ روپئے اور زائد کی حد تک ڈپازٹس کی جانچ ہوئی۔ زائداز 60 ہزار اشخاص جن میں ایک ہزار 300 کافی جوکھم کی صورتحال میں ہیں، اُن کی شناخت کی گئی اور اُنھیں نوٹ بندی کی مدت کے دوران بڑے نقدی لین دین کے سلسلہ میں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT