Monday , September 25 2017
Home / بچوں کا صفحہ / کام کو ٹالنے میں بڑی خرابیاں

کام کو ٹالنے میں بڑی خرابیاں

ایک بُرے آدمی نے عام راستے پر ایک ایسا درخت بودیا جو کانٹوں والا تھا ۔ راہ چلتے لوگ اُس کو ملامت کرنے لگے کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ اس درخت کو یہاں سے اُکھیڑ ڈالو ، لیکن اس شخص نے کسی کے کہنے سُننے کی پروا نہ کی اور درخت بڑھتا گیا ۔ یہاں تک کہ اُس میں کانٹے اُگ آئے جو زمین پر گرکر راستہ چلنے والوں کے پیروں میں چُبھتے تھے ۔
جب حاکم شہر کو اُس شخص کی ناشائستہ حرکت کا علم ہُوا تو اُس نے اُسے بُلاکر تاکید کی کہ اس درخت کو فوراً اُکھیڑ دو۔ اُس نے کہا ۔ بہت اچھا ۔ ’’بس ایک دو دن میں اُکھیڑ دوں گا ‘‘۔ مگر اُس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ حاکم جب پُوچھتا یہ ٹال دیتا ۔ اور ہر دفعہ کل کا وعدہ کرلیتا ۔ اسی آج کل میں ایک مُدّت گُزرگئی اور اُس خاردار درخت کی جڑیں بہت مضبوط ہوگئیں۔ ایک دن حاکم نے اُسے بُلا بھیجا اور غصّے سے کہا کہ ’’اے وعدہ خلاف ! تو ہمارے حُکم کی فوری تعمیل کر ۔ اب تیری ٹال مٹول نہیں چلے گی ‘‘ ۔ اُس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا ’’عالیجاہ! آپ کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم رہے ۔ دُنیا کے دھندے دم نہیں لینے دیتے ۔ اسی لئے دیر ہوگئی ۔ کسی فُرصت کے وقت اس درخت کو ضرور کاٹ دُوں گا ‘‘ ۔ حاکم نے جھڑک کر کہا ۔ احمق تو نے سُنا نہیں کہ آج کا کام کل پر نہیں ٹالنا چاہئے ۔ لہذا جلدی کر اور اُسے فوراً اُکھیڑ ڈال ‘‘ ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بُری عادت پر شروع ہی میں قابو نہ پایا جائے تو وہ پکی ہوجاتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT