Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس ارکان مقننہ کو مستعفی ہوکر دوبارہ منتخب ہونے کا چیلنج

کانگریس ارکان مقننہ کو مستعفی ہوکر دوبارہ منتخب ہونے کا چیلنج

کے سی آر کی سنہری تلنگانہ کی طرف پیشقدمی کانگریس کو ناقابل برداشت : جی بالراجو
حیدرآباد۔ 19 اگست (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ارکان مقننہ نے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوکر دوبارہ عوام سے رجوع ہوں تاکہ اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ تلنگانہ کے عوام کس کے ساتھ ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی جی بالراجو اور رکن قانون ساز کونسل کے نارائن ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محبوب نگر میں آبپاشی پراجیکٹس کے مسئلہ پر کانگریس کے رکن اسمبلی ومشی چند ریڈی اور دیگر قائدین بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی استعفیٰ دینے تیار ہوں تو ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی بھی مستعفی ہوجائیں گے اور فیصلہ عوامی عدالت میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین میں کسی بھی مسئلہ پر ایک رائے نہیں ہے اور ہر ضلع کے قائدین کا علیحدہ علیحدہ موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کی سمت پیشقدمی کررہے ہیں۔ یہی بات کانگریس قائدین کو برداشت نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین میں دور اندیشی کی کمی ہے اور وہ صرف ترقیاتی پراجیکٹس میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوشحال ریاست کیلئے آبپاشی پراجیکٹس کی تکمیل ناگزیر ہے اور حکومت مقررہ وقت پر پراجیکٹس کی تکمیل کے عہد کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر ضلع جہاں سے کانگریس دور حکومت میں لاکھوں افراد نے نقل مقام کیا تھا، آج وہ کے سی آر حکومت میں واپس ہورہے ہیں۔ کانگریس دور حکومت میں ضلع کی ترقی اور پراجیکٹس کی تکمیل پر توجہ نہیں دی گئی اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے آبپاشی پراجیکٹس کا کام شروع کیا، عدالت میں مقدمات کے ذریعہ رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام نے کانگریس کو سبق سکھایا تھا، پھر بھی اس کے قائدین خود کو سدھارنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وزیر پنچایت راج جوپلی کرشنا راؤ پر ومشی چند ریڈی کی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے ارکان مقننہ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں اور عوامی خدمات کے سلسلے میں جوپلی ’’ہیرو‘‘ اور ومشی چند ریڈی ’’زیرو‘‘ ہیں۔ کانگریس قائدین نے کبھی بھی ضلع کی ترقی پر توجہ نہیں دی۔ برخلاف اس کے پراجیکٹس کی تکمیل میں بے قاعدگیوں کے ذریعہ کروڑہا روپئے کا غبن کیا گیا۔

 

TOPPOPULARRECENT