Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / کانگریس ارکان کے احتجاج سے راجیہ سبھا کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی

کانگریس ارکان کے احتجاج سے راجیہ سبھا کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی

گجرات کے مندر میں ذات پات کے امتیازات کی تردید میں مرکزی وزراء پر گمراہ کن بیان دینے کا الزام
نئی دہلی ۔ 2 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس ارکان نے آج مرکزی وزراء ارون جیٹلی اور پیوش گوئیل کے بیانات کے خلاف راجیہ سبھا میں زبردست احتجاج کیا ، اس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی کردینی پڑی جبکہ ان وزراء نے گجرات کے ایک مندر میں سابق مرکزی وزیر کماری شلیجہ کی ذات پات کے بارے میں دریافت کئے جانے پر اختلاف کیا تھا۔ کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی کرنے لگے جس کے باعث کارروائی کو تین مرتبہ پہلی بار 10 منٹ کیلئے، دوسری مرتبہ دوپہر تک اور تیسری مرتبہ 2 بجے تک ملتوی کردینی پڑی اور یہ الزام عائد کیا کہ شلیجہ کے ریمارکس پر حکومت کا بیان گمراہ کن ہے ۔ کماری شلیجہ نے کل دستور سے عہد بستگی پر بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بحیثیت مرکزی وزیر (یو پی اے حکومت) گجرات کے دوارکا ٹاؤن کے ایک مندر میں درشن کیلئے گئی تھیں، اس وقت ان کی ذات پات کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔ راجیہ سبھا میں آج صبح جیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع ہوئی قائد ایوان ارون جیٹلی نے کماری شلیجہ کے ریمارکس کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ دراصل شلیجہ نے فروری 2013 ء میں دوارکا مندر کے دورہ کے موقع پر ستائشی کلمات ادا کئے تھے ۔

انہوں نے مندر کے کتاب الرائے میں درج کماری شلیجہ کی تحریر کو پڑھ کر سنایا جس میں مندر کے بارے میں اپنے خوشگوار احساسات  ظاہر کئے گئے ہیں جس پر شلیجہ نے کہا کہ میں نے ہرگز مین دوارکا ٹمپل کا حوالہ نہیں دیا بلکہ یہ بیسٹ دوارکا مندر ہے ۔ براہ مہربانی ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں اور میں نے واضح کردیا تھا کہ یہ بیسٹ دوارکا مندر کا واقعہ ہے نہ کہ بڑے دوارکا مندر کا ہے ۔ غلط فہمی پیدا کرنے کیلئے دونوں منادر کو غلط ملط نہ کیا جائے ۔ کماری شلیجہ نے جب یہ ریمارک کیا کہ وزراء کی تھوڑی بہت شائستگی ہونا چاہئے جس کے ساتھ ہی کانگریس اور حکمراں جماعت کے ارکان میں بحث و تکرار ہوئی۔ دریں اثناء وزیر توانائی پیوش گوئل نے یہ لقمہ دیا کہ کانگریس ارکان ایک مصنوعی مسئلہ اور مصنوعی امتیاز پیش کر رہے ہیں جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے جس پر کانگریس ارکان مزید برہم ہوگئے اور شلیجہ کی قیادت میں ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔ ایوان میں شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر نائب صدرنشین پی جے کورین نے 10 منٹ کیلئے کارروائی ملتوی کردی۔ بعد ازاں کارروائی شروع ہونے کے لئے صورتحال میں تبدیلی نہ آنے پر 12 بجے تک ملتوی کردیا گیا اور تیسری مرتبہ جبکہ کرسی صدارت پر حامد انصاری فائز تھے، کانگریس ارکان نے دستور کی توہین بند کرو جیسے نعرے بلند کئے بحالت مجبوری انصاری نے بھی 2 بجے تک کارروائی ملتوی کردی۔ دریں اثناء حکومت نے آج کانگریس رکن کماری شلیجہ کے اس دعویٰ کو بناوٹی قرار دیا ہے کہ گجرات کے دوارکا مندر میں انہیں ذات پات کے امتیازات سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔ اس خصوص میں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے وزیٹر بک (کتابا لرائے) کو پیش کردیا جس میں شلیجہ نے بہترین انتظامات کی ستائش کی ہے ۔ کماری شلیجہ نے راجیہ سبھا میں بحث کے دوران یہ ادعا کیا تھا کہ وہ جب مرکزی وزیر کی حیثیت سے مندر درشن کیلئے گئی تھی، وہاں کے منتظمین نے ان سے ذات پات کے بارے میں سوالات کئے تھے۔ انہوں نے طنز کیا تھا کہ آیا یہ گجرات ماڈل ہے جو کہ بظاہر نریندر مودی پر حملہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT