Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس اقلیتی قائدین کی حکومت پر تنقید مضحکہ خیز

کانگریس اقلیتی قائدین کی حکومت پر تنقید مضحکہ خیز

ورنگل کی اقلیتیں ٹی آر ایس سے مطمئن ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا ادعا
حیدرآباد۔/19نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے حکومت کے اقدامات سے ورنگل کے اقلیتی رائے دہندے مطمئن ہیں اور انہوں نے انتخابی مہم کے دوران ٹی آر ایس کی مکمل تائید کا یقین دلایا ہے۔ انتخابی مہم سے واپسی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد محمود علی نے کہا کہ ورنگل کی تمام اقلیتیں پوری طرح ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں اور شہری اور دیہی علاقوں میں اقلیتوں نے ٹی آر ایس امیدوار اور قائدین کا زبردست استقبال کیا۔انہوں نے بتایا کہ ورنگل کی اقلیتی تنظیمیں اور مذہبی اداروں کے ذمہ داروں نے بھی ٹی آر ایس حکومت کی اقلیتوں کی ترقی سے متعلق سنجیدگی کا اعتراف کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان کی تمام ریاستوں میں تلنگانہ وہ واحد ریاست ہے جس نے اقلیتی بہبود کیلئے 1130 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال جیسی بڑی ریاستوں میں جہاں اقلیتوں کی آبادی تلنگانہ سے زیادہ ہے وہاں بھی اس قدر بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ محمود علی نے دعویٰ کیا کہ اقلیتوں کی ترقی کے اقدامات میں تلنگانہ حکومت ملک کی دیگر حکومتوں کے مقابلہ سرِفہرست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریاستوں نے تلنگانہ میں عمل کی جارہی اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں شروع کی گئی ’شادی مبارک‘ اسکیم کا ملک بھر میں زبردست چرچا ہوا ہے اور آندھرا پردیش، جموں و کشمیر اور اُتر پردیش کی حکومتوں نے اس اسکیم کا آغاز کیا۔ اس طرح دیگر ریاستوں کیلئے تلنگانہ کی اسکیمات قابل تقلید بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں کافی سنجیدہ ہیں اور انہوں نے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ کی تکمیل کا عہد کیا ہے۔ بی سی کمیشن کی تشکیل سے قبل حکومت سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ حاصل کرے گی اور بی سی کمیشن کے ذریعہ تحفظات کی فراہمی کی راہ ہموار کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ورنگل کی انتخابی مہم میں کانگریس کے قائدین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی نے کئی قومی قائدین کو مہم میں شامل کیا اس کے باوجود عوام میں کوئی جوش و خروش نہیں دیکھا گیا۔ محمود علی نے کہا کہ کانگریس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین کا حکومت پر تنقید کرنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ کانگریس دور حکومت میں ان قائدین نے کبھی بھی اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور بجٹ میں اضافہ پر توجہ نہیں دی۔ کانگریس کے 10سالہ دور حکومت میں اوقافی جائیدادیں تباہ ہوتی رہیں لیکن کسی نے توجہ نہیں دی برخلاف اس کے کانگریس کے اقلیتی نمائندے آندھرائی چیف منسٹرس کے ہمنوا بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی میدان میں اُتارنے کیلئے کوئی مقامی قائد دستیاب نہیں ہوا کیونکہ کوئی بھی مقامی شخص بدترین شکست کیلئے تیار نہیں تھا آخر کار دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبراً امیدوار بنایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس کے امیدوار سروے ستیہ نارائنا اُس سکہ کی طرح ہیں جو ملکاجگری میں نہیں چل سکا اور عوام نے مسترد کردیا انہیں کس طرح ورنگل کے رائے دہندے قبول کریں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے ہنمکنڈہ میں ریالی سے خطاب کے بعد سے انتخابی ماحول ٹی آر ایس کے حق میں ہوچکا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT