Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / !کانگریس اور بی جے پی کا ایک سُر 

!کانگریس اور بی جے پی کا ایک سُر 

حیدرآباد۔/24مارچ، ( سیاست نیوز) کانگریس اور بی جے پی عوام کے درمیان دو مختلف نظریات کی حامل جماعتیں ہیں اور ایک دوسرے کی کٹر مخالف ہیں لیکن تلنگانہ اسمبلی میں آج دونوں پارٹیوں میں اتحاد دیکھا گیا اور دونوں ایک سُر میں بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ مسلم تحفظات کے خلاف ’ چلو اسمبلی‘ احتجاج کے سلسلہ میں قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بی جے پی ارکان ایوان میں احتجاج کررہے تھے اور جب حکومت نے کارروائی میں مسلسل رکاوٹ پیدا کرنے پر بی جے پی کے 5 ارکان کو دو دن کیلئے ایوان سے معطل کردیا تو اس وقت حیرت انگیز طور پر کانگریس کے سینئر قائد اور قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے نہ صرف معطلی کی مخالفت کی بلکہ بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ بی جے پی کی معطلی پر کانگریس کا واک آؤٹ یقیناً ارکان میں حیرت کا باعث تھا اور وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے کانگریس پر بی جے پی کی تائید کیلئے طنز کیا۔ آج صبح اسمبلی کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی فلور لیڈر کشن ریڈی کی قیادت میں 5 ارکان ڈاکٹر کے لکشمن، این وی وی ایس پربھاکر، سی ایچ رامچندرا ریڈی اور راجہ سنگھ ایوان کے وسط تک پہنچ گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ گلے میں سیاہ کھنڈوا ڈالے ہوئے تمام بی جے پی ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ’ چلو اسمبلی‘ احتجاج میں گرفتاریوں کی مذمت کررہے تھے۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے کہا کہ بی جے پی ارکان دراصل معطلی کیلئے گڑبڑ کررہے ہیں کیونکہ انہیں احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک التواء پر توجہ دہانی وقفہ سوالات کے بعد کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اسپیکر کی اجازت سے 5 بی جے پی ارکان کی ہفتہ تک معطلی کی قرارداد پیش کردی۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جن وجوہات کے سبب گرفتاریاں ہوئی ہیں اس کی وضاحت کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دھرنا چوک کی برخواستگی سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اگر جانا ریڈی بی جے پی ارکان کو احتجاج ترک کرنے کی کامیاب ترغیب دیں تو معطلی کا فیصلہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ جانا ریڈی نے دوبارہ کہا کہ عوام کی آواز حکومت تک پہنچانے کیلئے اسمبلی سے ہٹ کر کونسا فورم ہے۔ انہوں نے گرفتار شدہ افراد کی رہائی اور معطلی کا از سر نوجائزہ لینے کی اپیل کی۔ اسپیکر مدھوسدن چاری نے بی جے پی ارکان سے بار بار اپیل کی جس کا کوئی اثر نہیں ہوا جس پر معطلی کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ معطلی کے بعد بھی بی جے پی ارکان ایوان میں نعرہ لگاتے ہوئے موجود تھے جس پر مارشلس کو طلب کرتے ہوئے انہیں ایوان سے باہر لیجایا گیا۔ بی جے پی ارکان ’جمہوریت بچاؤ، پولیس راج اور بھارت ماتا کی جئے‘ جیسے نعرے لگارہے تھے۔ بی جے پی ارکان کے ایوان سے جانے کے بعد قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ ہر شخص کی آواز کو کچلنا جمہوریت کے مغائر ہے جو کوئی بھی ایوان میں اُٹھے اسے معطل کرنا حکومت کیلئے اچھی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے معطلی کے خلاف بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے کہا کہ ایوان کی کارروائی بہتر طور پر چلانے کیلئے قواعد مدون کئے گئے جن پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں برسراقتدار پارٹی سے زیادہ اپوزیشن کو وقت دیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں تلنگانہ اسمبلی کی بہتر انداز میں کارروائی کی مثال پیش کی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بجٹ سیشن میں زائد ارکان کے باوجود ٹی آر ایس نے 8 گھنٹے 40 منٹ کا وقت دیا جبکہ کانگریس کو 11گھنٹے 40 منٹ کا وقت دیا گیا۔ 5ارکان پر مشتمل بی جے پی نے 5 گھنٹے 30 منٹ مباحث میں حصہ لیا۔ مجلس 3 گھنٹے 36 منٹ، تلگودیشم 2 گھنٹے 14منٹ اور سی پی ایم کو ایک گھنٹہ 15 منٹ کا وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے 3 گھنٹے 3 منٹ بات کی جبکہ قائد اپوزیشن نے 2گھنٹے 11منٹ کا وقت لیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT