Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس اور جنتادل یونائٹیڈ سیتارام یچوری کو رکن راجیہ سبھا بنانے کوشاں

کانگریس اور جنتادل یونائٹیڈ سیتارام یچوری کو رکن راجیہ سبھا بنانے کوشاں

سی پی آئی ( ایم ) کے قائد کی میعاد قریب الختم ، اپوزیشن جماعتیں بھی متفکر
حیدرآباد۔22مئی (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے قد آور قائد کامریڈ سیتا رام یچوری کی راجیہ سبھا رکنیت کی معیاد ختم ہونے جا رہی ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ انہیں تیسری معیاد کیلئے راجیہ سبھا میں برقرار رکھا جائے جبکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے اصولوں کے مطابق اب تک کسی بھی قد آور سیاسی قائد کو خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اسے تیسری معیاد کیلئے راجیہ سبھا میں نہیں بھیجا گیا علاوہ ازیں کمیونسٹ جماعتوں میں جہاں پارٹی سیکریٹری کا عہدہ کافی اہمیت کا حامل ہے اس عہدہ پر رہنے والے سیاسی قائد کو پارلیمانی سیاست سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ پارٹی امور پر کوئی اثرات مرتب نہ ہو اور پارلیمانی امور کی انجام دہی میں پارٹی امور کی مصروفیات رکاوٹ نہ بنیں۔سی پی ایم کے یہ اصول اپنی جگہ موجود ہیں لیکن کانگریس اور جنتادل یونائٹیڈ جیسی سرکردہ اپوزیشن جماعتیں بھی سیتا رام یچوری کو تیسری معیاد کیلئے منتخب کروانے کے حق میں ہیں کیونکہ ان جماعتوں کے قائدین کا ماننا ہے کہ راجیہ سبھا میں عوامی امور پر حکومت کو گھیرنے اور بالخصوص موجودہ مودی حکومت میں پارلیمنٹ میں سیتا رام یچوری جیسے قائدین کی ضرورت ہے۔مرکز میں موجود اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ قائدین کا کہنا ہے کہ اگر سیتا رام یچوری جیسے سیکولراور عوامی قائدین ایوان میں نہیں رہیں گے تو ایسی صورت میں حکومت کو کھلی چھوٹ مل جائے گی اسی لئے ان کے تیسری معیاد کے لئے انتخاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) قائدین کا کہنا ہے کہ سی پی ایم نے بھاری اکثریت رکھنے کے باوجود کبھی کسی قائدکو تیسری معیاد کیلئے پارلیمانی سیاست میں سرگرم رہنے کا موقع نہیں دیا بلکہ انہیں پارٹی کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں تاکہ وہ پارلیمانی سیاست سے دور ہوکر پارٹی کے استحکام پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ سی پی ایم قائدین کی جانب سے ایس رامچندرن پلئی اور ای بالا نندن جیسے قائدین کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان قائدین کو جب تیسری معیاد کا موقع نہیں دیا گیا تو سیتا رام یچوری کو کیسے دیا جاسکتا ہے لیکن جو لوگ کامریڈ سیتا رام یچوری کے تیسری معیاد کے لئے انتخاب کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اب تک ملک میں ایسے حالات بھی پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن اب ملک کے جو حالات ہیں انہیں دیکھتے اپنے اصولوں میں معمولی تبدیلی لانی چاہئے کیونکہ یہ فیصلہ صرف سی پی ایم کے حق میں نہیں بلکہ ملک کے حق میں بہتر ثابت ہوگا کیونکہ ان حالات میں سیتا رام یچوری جیسے مدبر قائدین کی ضرورت کو اپوزیشن جماعتیں محسوس کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT