Wednesday , September 20 2017
Home / سیاسیات / کانگریس بند پر مغربی بنگال میں ملاجلا ردعمل

کانگریس بند پر مغربی بنگال میں ملاجلا ردعمل

کولکتہ ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کی جانب سے مغربی بنگال میں آج 12 گھنٹے کے بند کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پر پرجوش ردعمل کولکتہ میں حاصل نہیں ہوا ۔ حالانکہ بعض اضلاع میں مکمل بند منایا گیا ۔ بیشتر دوکانیں ، بازار اور کاروباری ادارے کولکتہ میں کھلے رہے۔ سرکاری بسیں ، ٹرامس معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔ حالانکہ خانگی بسیں ، منی بسیں کم تعداد میں چل رہی تھیں ۔ میٹرو ریلوے حسب معمول تھی ۔ ریاستی حکومت نے کل اعلان کیا تھا کہ تمام دفاتر کھلے رہیں گے اور ملازمین کو ڈیوٹی پر آنا چاہئے ۔ گورنر نے فیصلہ کیا تھا کہ ملازمین کی غیر حاضری کی صورت میں اس دن بغیر تنخواہ کی رخصت کے ساتھ ساتھ غیرحاضر ملازمین کی سرزنش کی جائے گی۔ جب تک غیرحاضری کی وجوہات جائز نہ ہوں تنخواہ ادا نہیں کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں ریاستی محکمہ فینانس نے ایک مراسلہ جاری کیا تھا ۔ بند مبینہ ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج منایاگیا تھا ۔

 

مغربی مدنا پور کے کالج میں ایک طالب علم دہشت گردی اور تشدد کے نتیجہ میں ہلاک ہوگیا تھا ۔ مبینہ طورپر یہ کارروائی برسراقتدار پارٹی کی تھی ۔ کانگریس کارکنوں نے شہر میں صبح سے ہی جلوس نکالے اور بازار بند کروائے ۔ کانگریس کے مستحکم گڑھ مرشدآباد میں جو مغربی بنگال پردیش کانگریس کے صدر ادھیر چودھری کا آبائی وطن ہے دوکانیں اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ برہم پور میں بند کروانے کے سلسلے میں کانگریس حامیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ بند کے حامیوں کا پولیس سے تصادم ہوگیا ۔ چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس برسراقتدار ترنمول کانگریس کے اشارے پر کام کررہی ہے ۔ انھوں نے تصادم کے مقام کا دورہ بھی کیا ، جہاں کانگریس کارکنوں نے چند بسوں کو نقصان پہنچایا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT