Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / کانگریس ’’بھارت بند‘‘ سے دستبردار، نوٹوں کی منسوخی پر احتجاج برقرار

کانگریس ’’بھارت بند‘‘ سے دستبردار، نوٹوں کی منسوخی پر احتجاج برقرار

حکومت نے کرنسی کا بحران اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے برپا کیا: کانگریس لیڈر جئے رام رمیش
نئی دہلی۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج یہ واضح کردیا کہ اس نے کل ’’بھارت بند‘‘ کی اپیل نہیں کی ہے، البتہ وہ کرنسی کی منسوخی کے خلاف ملک بھر میں اپنے احتجاج کو برقرار رکھے گی جس کے بارے  میں اس کا الزام ہے کہ کرپشن کے خلاف لڑائی کے نام پر حکومت سیاسی کھیل میں ملوث ہے۔ یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی لیڈر جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ’’دھماکہ سیاست‘‘ پر یقین رکھتے ہیں، اسی لئے انہوں نے بڑی  قدر والے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اُترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے ’’نوشتہ دیوار‘‘ دیکھ کر ہی کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1000 اور 500 روپئے کی کرنسی کو اس لئے بند کردیا گیا کیونکہ حکومت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم نے بڑا انتخابی وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع کالے دھن کو واپس لائیں گے لیکن اس میں جب بُری طرح ناکامی ہوئی تو وہ مودی ’’ڈرامائی‘‘ حرکتیں کررہے ہیں۔ یہ ایک سیاسی قدم ہے جس کو کرپشن کے خلاف لڑائی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جو لوگ غیرقانونی طریقہ سے بے شمار دولت جمع کرچکے ہیں، وہ قطعی پریشان نہیں ہیں۔

ایک گروہ ہے جو سوٹ بوٹ کے ساتھ آرام کی زندگی گذار رہا ہے۔ بدبختی کی بات یہ ہے کہ بی جے پی یہ گمراہ کن مہم چلا رہی ہے کہ کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے کل بھارت بند کی اپیل کی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں کل ملک گیر سطح پر بھارت بند نہیں منا رہی ہیں بلکہ احتجاج کررہی ہیں۔ اپوزیشن نے کہا کہ ’’یوم عوامی برہمی‘‘ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مودی حکومت پر راست تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں 9 ن ومبر سے معاشی سرگرمیاں بُری طرح ٹھپ ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حکمت عملی کیا ہے؟ جئے رام رمیش نے کہا کہ اگر وزیراعظم حصہ لیں گے تو ہی بحث ہوگی۔ کانگریس لیڈر نے کرنسی نوٹوں کو لانے میں حکومت کی تیاری پر بھی سوال کیا اور کہا کہ تخمینہ کے مطابق نئے نوٹ پرنٹ ہونے کے لئے 250 دن درکار ہوتے ہیں اور اس وقت تک معاشی صورتِ حال ٹھپ ہی رہے گی۔ انہوں نے وزیراعظم کی اس اپیل پر بھی تنقید کی کہ وہ سماج کو ’’کیاش لیس‘‘ یا ’’لیس کیاش‘‘ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ہندوستان میں عوام کی اکثریت اپنے روزمرہ کے کاموں کے لئے ’’کیاش‘‘ (نقد رقم) کی استعمال کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT