Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس تلنگانہ کی دشمن نمبر ایک ، کے ٹی آر کا ریمارک

کانگریس تلنگانہ کی دشمن نمبر ایک ، کے ٹی آر کا ریمارک

ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام ۔ ٹی آر ایس ودیارتھی کے توسیعی اجلاس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 17۔ جولائی (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ کی دشمن نمبر ایک ہے، اس نے ریاست کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی بارہا کوشش کی اور یہ کوششیں ابھی بھی جاری ہیں۔ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس کی طلبہ تنظیم ٹی آر ایس ودیارتھی کے توسیعی اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تاریخی حوالے پیش کئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس قائدین نے تلنگانہ کو جبراً آندھرا میں شامل کیا تھا جس کے بعد سے علاقہ کے ساتھ ناانصافیوں کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کانگریس قائدین نے علحدہ تلنگانہ نعرہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ کانگریس قائدین نے کبھی بھی تلنگانہ تحریک میں حصہ نہیں لیا اور وہ ہمیشہ آندھرائی قائدین کے زیر اثر تلنگانہ تحریک کو نقصان پہنچانے کی سازش کرتے رہے۔ آج بھی کانگریس قائدین تلنگانہ کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی میں سنجیدہ کسی بھی قائد کیلئے کانگریس پارٹی نے جگہ نہیں ہے اور کئی قائدین نے پارٹی سے علحدگی اختیار کرلی۔ کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی کے اس دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ کانگریس نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رحم و کرم پر تلنگانہ تشکیل نہیں دیا گیا۔ تلنگانہ کی عدم تشکیل کی صورت میں پارٹی کا مکمل صفایا ہوجانے کے خوف سے مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے حق میں قانون سازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی حکمرانی کے بارے میں کانگریس پارٹی کو زبان کھولنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ایسی پارٹی جس کی تاریخ خود خاندانی حکمرانی سے بھری پڑی ہے ، اس کی جانب سے ٹی آر ایس پر الزام عائد کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں تلنگانہ ریاست نے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران طلبہ کے رول کی ستائش کی اور کہا کہ طلبہ نے نئی ریاست کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بنگارو تلنگانہ کی تشکیل کیلئے جدوجہد کریں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مستقبل کی قیادت نوجوانوں اور طلبہ کی ہوگی ، لہذا انہیں ریاست کی ترقی کے عزم سے کام کرنا چاہئے ۔ سنہرے تلنگانہ کی ترقی کیلئے چندر شیکھر راؤ دن رات مساعی کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے نظریہ ساز پروفیسر جئے شنکر کو خراج پیش کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ان کی جگہ کوئی اور قائد نہیں لے سکتا اور ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر کو صاف پینے کے پانی کی سربراہی کے بارے میں آج تک کسی چیف منسٹر نے نہیں سوچا۔ کے سی آر نے مشن بھگیرتا کے تحت اس کام کی تکمیل کا فیصلہ کیا جو تاریخی اقدام ہوگا۔ تلنگانہ سے ناانصافی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ ریاست میں چتور ضلع میں پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے 9 ہزار کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ تلنگانہ کے 31 اضلاع کیلئے ٹی آر ایس حکومت 43 ہزار کروڑ خرچ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشن بھگیرتا پر عمل آوری کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور تلنگانہ عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے ، انکی تکمیل کی جائیگی۔ کانگریس کو ترقی کے بجائے کنٹراکٹر ، سب کنٹراکٹر اور بلز کی فکر ستاتی رہی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT