Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس دور حکومت کے پراجکٹس کو ٹی آر ایس کارنامہ قرار دینے کی مذمت

کانگریس دور حکومت کے پراجکٹس کو ٹی آر ایس کارنامہ قرار دینے کی مذمت

چیف منسٹر کے سی آر پر آبپاشی پراجکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام : مدھو گوڑیشکی

حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ترجمان و سکریٹری اے آئی سی سی مدھوگوڑ یشکی نے چیف منسٹر کی جانب سے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے کانگریس پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی جانب سے تعمیر کردہ ’ گھر کو چونا ‘ ڈالتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے سارا گھر خود تعمیر کرنے کا دعویٰ کرنے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوچم پاڈ کے جلسہ عام میں ٹی آر ایس نے ایک شخص کو 500 روپئے کے ساتھ ’ بیر اور بریانی ‘ دیتے ہوئے جمع کرنے کا الزام عائد کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مدھو گوڑیشکی نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے تعمیر کردہ آبپاشی پراجکٹس کی تھوڑی بہت ری ڈیزائننگ کرتے ہوئے سارے پراجکٹس ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے تعمیر کرنے کا عوام میں تاثر دینے کی سخت مذمت کی اور چیف منسٹر کے سی آر سے استفسار کیا کہ جب بابلی پراجکٹ کے خلاف کانگریس کی جانب سے احتجاج کیا جارہا تھا کیا اس وقت آپ نشے میں تھے ۔ اس وقت مہاراشٹرا کی جانب سے بابلی پراجکٹ تعمیر کرنے کی بحیثیت ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ کے سی آر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بابلی پراجکٹ کی تعمیر سے تلنگانہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ آج اقتدار حاصل ہونے کے بعد پڑوسی ریاستوں کی جانب سے پراجکٹس تعمیر کرنے کی وجہ سے تلنگانہ کو پانی نہ ملنے دعویٰ کرنا کے سی آر کی نا اہلی کا ثبوت ہے ۔ مدھوگوڑ یشکی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر بار بار کانگریس قائدین پر آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں رکاوٹ پیدا کرنے کے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کل ایس آر ایس پی کے پوچم پاڈ میں جہاں ٹی آر ایس نے جلسہ عام منعقد کیا تھا وہ کانگریس کی جانب سے تعمیر کردہ پراجکٹ ہے ۔ وہ جس نہر کے پاس سنگ بنیاد رکھا وہ اور ایلم پلی پراجکٹ سب کے سب کانگریس کے دور حکومت میں تعمیر کئے گئے ۔ صرف اسمبلی کا سہارا لیتے ہوئے جھوٹ بولنے چیف منسٹر پر الزام عائد کیا اور کہا کہ کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے عوام کو 500 روپئے مزدوری کے ساتھ بیر اور بریانی دینے جلسہ گاہ تک پہونچنے کے لیے بسوں کا انتظام کرنے اسکولس کو تعطیل دینے کے باوجود جلسہ عام پوری طرح ناکام ہوگیا ۔ جلسہ عام میں شرکت نہ کرنے پر خواتین کی تنظیموں پر جرمانہ عائد کرنے کی دھمکیاں دی گئی ۔ باوجود اس کے جلسہ عام پوری طرح ناکام ہوگیا ۔۔

 

TOPPOPULARRECENT