Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس دور میں حیدرآباد کی حقیقی ترقی

کانگریس دور میں حیدرآباد کی حقیقی ترقی

ٹی آر ایس ’’ہنگامہ آرائی کی سیاست ‘‘ ترک کرے: جئے پال ریڈی
حیدرآباد۔ 14 جنوری (آئی این این)سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پیشرو یو پی اے حکومت نے گریٹر حیدرآباد کیلئے 4,000 کروڑ روپئے سے زائد مالیتی پروجیکٹس منظور کئے تھے ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پروجیکٹس کی تفصیلات بتائی جنہیں اُس وقت منظور کیا گیا جب وہ مرکزی وزیر شہری ترقیات تھے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2011ء میں 14,132 کروڑ روپئے لاگتی حیدرآباد میٹرو ریل پروجیکٹ منظور کیا گیا۔ انہوں نے 2009ء میں اے پی ایس آر ٹی سی کے ذریعہ شہر حیدرآباد کیلئے خاص طور پر 473.30 کروڑ روپئے لاگت سے 1422 لگژری بسیس کو منظوری دی تھی۔ دریائے کرشنا سے پینے کے پانی کی سربراہی کے پروجیکٹ مرحلے دوم کیلئے 606.50 کروڑ روپئے کی رقم منظور کی گئی۔ جئے پال ریڈی نے کہا کہ جس وقت وہ وزیر اطلاعات و نشریات نے انہوں نے انٹرنیشنل چلڈرنس فلم فیسٹیول کیلئے حیدرآباد کو مستقل مرکز بنایا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر کئی اسکیمات اور رقمی منظوریوں کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے موجودہ حکومت سے کہا کہ وہ ’’ہنگامہ آرائی کی سیاست‘‘ ترک کرے اور ’’ترقیاتی کاموں ‘‘ پر توجہ دے۔اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی این اتم کمار ریڈی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے صرف 200 مکانات تعمیر کئے اور تشہیر کے ذریعہ ایسا تاثر دیا جارہا ہے گویا اس نے سارے حیدرآباد میں مکانات تعمیر کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے دور میں شہر حیدرآباد کے اطراف 77,000 مکانات تعمیر کروائے تھے۔

TOPPOPULARRECENT