Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس رکن اسمبلی اور ٹی آر ایس ایم پی کے درمیان استعفوں کا چیالنج

کانگریس رکن اسمبلی اور ٹی آر ایس ایم پی کے درمیان استعفوں کا چیالنج

کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سکھیندر ریڈی کے درمیان ٹھن گئی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی کے درمیان استعفیٰ کے مسئلہ پر لفظی بحث و تکرار میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پھر ایک مرتبہ استعفیٰ دینے کا چیلنج کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سروے کرانے اور اپوزیشن کو 8 حلقوں پر کامیابی حاصل ہونے کے دعویٰ کے بعد اپوزیشن جماعتیں حکمران ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ حلقہ اسمبلی نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ضلع نلگنڈہ سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کر کے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے منتخب عوامی نمائندوں سے استعفیٰ دلاکر دوبارہ انتخابات کرانے کا چیف منسٹر کو چیلنج کیا تھا اگر ٹی آر ایس کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو 2019 کے عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا جس پر حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی نے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے پہلے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جس کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے رکن اسمبلی ریڈی نے کہا کہ انہوں نے سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کی ہے ۔ بلکہ جی سکھیندر ریڈی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے عادی ہیں وہ پہلے تلگو دیشم سے مستعفی ہو کر کانگریس میں اور کانگریس کے ٹکٹ پر دو مرتبہ منتخب ہونے کے بعد اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں ۔ اس لیے وہ جی سکھیندر ریڈی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ اس کے بعد حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ کے لیے منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر جی سکھیندریڈی سے مقابلہ کریں گے ۔ نتائج سے ظاہر ہوجائے گا کہ غدار کون ہے اور خدمت گذار کون ہے ۔ مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے استفسار کیا کہ عوام ٹی آر ایس کو ووٹ کیوں دیں ؟ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کیے گئے ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ قرضوں کی عدم معافی سے کسان اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے طلبہ برادری پریشان حال ہیں ۔ حکومت کے خلاف عوام میں ناراضگی اور برہمی پائی جاتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT