Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / کانگریس سے اتحاد پر سی پی آئی (ایم) میں داخلی ناراضگی

کانگریس سے اتحاد پر سی پی آئی (ایم) میں داخلی ناراضگی

پارٹی موقف پر عمل آوری کیلئے مغربی بنگال پارٹی عہدیداروں اور یچوری کا بند کمرہ اجلاس
کولکتہ۔13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ایم جو ایک ڈسپلین کی پابند پارٹی سمجھی جاتی تھی، سمجھا جاتا ہے کہ داخلی خانہ جنگی کا شکار ہوگئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مغربی بنگال کے کامریڈس نے پارٹی کی سیاسی موقف کو ریاست میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کو چیلنج کیا ہے۔ پارٹی کو قبل ازیں ایسی صورتحال کا کبھی سامنا کرنا نہیں پڑا تھا۔ مغربی بنگال شاخ نے کبھی بھی سی پی آئی ایم کی مرکزی قیادت کی سیاسی مفاہمت پر اعتراض نہیں کیا تھا اور نا اس کے فیصلوں کو کبھی چیلنج کیا تھا۔ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے جو بھی موقف اختیار کیا اس کے پابند رہے تھے۔ لیکن ریاست میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے پارٹی قیادت کے فیصلے کو ریاستی قیادت کی جانب سے چیلنج کیا جارہا ہے۔ پارٹی میں داخلی طور پر کسی بھی مسئلہ پر مباحث منعقد کئے جاتے تھے اور یہ کمیونسٹ پارٹی کا طریقہ کار تھا۔ لیکن پہلی بار ایسے مباحث مغربی بنگال کے کامریڈس کی جانب سے مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو برسر عام چیلنج کرنے کے بعد منعقد ہورہے ہیں۔ ریاستی کمیٹی کے ا یک رکن نے کہا کہ پارٹی کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں اختلافات منظر عام پر آچکے ہیں۔ بنگال کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے

اور اس کے لئے غیر معمولی اقدامات ضروری ہیں۔ ہم نے انتخابی اتحاد کانگریس کے ساتھ صرف جمہوریت کو بچانے کے لئے کیا تھا، یہ بقا کی جنگ تھی اور قیادت کو حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن مرکزی کمیٹی کے ارکان کا ایک گوشہ صورتحال کو سمجھنے سے قاصر رہا اور ہم پر پارٹی کے سیاسی موقف کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے لگا۔ ایسی صورت میں آپ کیا کرسکتے ہیں، پارٹی کے حامی روزانہ ہلاک کئے جارہے ہیں اور ریاست میں سی پی آئی ایم کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔ ریاستی کمیٹی کا ایک اجلاس کل منعقد ہوا تھا جس میں مرکز کے پولیٹ بیورو ارکان کو بشمول پارٹی جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے ایک بند کمرہ اجلاس منعقد کیا جس میں ریاستی کمیٹی کے ارکان پر پارٹی کے سرکاری موقف پر عمل آوری کی تلقین کی گئی۔ 20 جون کو مرکزی کمیٹی نے انتخابی نتائج کے ایک ماہ بعد ترنمول کانگریس کی مغربی بنگال میں کامیابی کے بعد پارٹی اپنے فیصلوں کے سلسلے میں بے دار مغز نہیں تھی اور ریاستی پارٹی قیادت کانگریس کے ساتھ اتحاد یا مفاہمت کی وجوہات کو نہیں سمجھ سکی۔

TOPPOPULARRECENT